جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

سوموار, جولائی 11, 2016 عرفان وحید 0 Comments


شکیل شمسی کے حالیہ کالم پر تبصرہ

ایک امریکی مصنف کا مقولہ ہے کہ 'ہٹ دھرمی اچھی بھی ہو سکتی ہے اور بری بھی۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اسے کیسے استعمال کرتے ہیں۔'  ہٹ دھرمی کیسے کسی پر اثر انداز ہوتی ہے اور کس طرح بھلے برے کی تمیز چھین لیتی ہے اس کی حالیہ مثال شمسی صاحب ہیں جنہوں نے اپنے گزشتہ دو اداریوں کے بعد ایک اور اداریہ ڈاکٹر ذاکر نائیک پر لکھ مارا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ احباب کے بار بار سمجھانے پر اور ان کی لغزشوں کی نشان دہی کے بعد اپنے موقف پر نظر ثانی کرتے، اتحاد ملت کی خاطر اپنی رائے سے رجوع کرتے اور جو حق ہے اسی کا ساتھ دیتے۔ اگر ایسا نہیں کرسکتے تھے تو کم از کم خاموشی اختیار کر لیتے۔ لیکن ہائے رے پندار اور انا کی فتنہ سامانیاں، ان کا ۱۱ جولائی کا کالم بھی ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف مغالطہ انگیزی کی نذر ہو گیا۔ آپ نے آج کے 'موضوع گفتگو' میں شکوہ کیا ہے کہ فیس بک پر بہت سے لوگ اپنے ٹوٹے پھوٹے قلم میز کی درازوں سے نکال کر انقلاب کی مخالفت میں ٹوٹ پڑے۔ کیوں نہ ٹوٹتے، وقت کی نزاکت یہی کہتی ہے کہ اپنے ہوں یا اغیار، زہر ہلاہل کو زہر ہلاہل ہی کہا جائے اگر اسے مصلحت میں قند قرار دیا جائے گا تو آنے والا وقت ملت کو اس کی مصلحت کوشی اور جانب داری  کے لیے کبھی معاف نہیں کرے گا۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف مدیر انقلاب نے اس تیسری قسط میں اگرچہ اس بار قسط نمبر نہیں لکھا لیکن یہ سلسلہ پہلی دو اقساط ہی کا تسلسل ہے۔ اس کالم میں ان کی بدحواسی صاف عیاں ہے آپ دیکھیں گے کہ آج کا اداریہ غیر مربوط تو ہے ہی، ساتھ ہی حسب سابق انہوں نے جگہ جگہ ٹھوکریں کھائی ہیں ۔ ہم ان کی باتوں پر انتہائی اختصار کے ساتھ تبصرہ کریں گے۔ ہمارامقصد ان کی  توہین یا دل آزاری کرنا نہیں ہے۔ لیکن ہم وہی کہیں گے جو حق ہے خواہ یہ کسی کو برا ہی کیوں نہ لگے۔ ان کے کالم کو اگر ہم مختصر اجزا میں تقسیم کرلیں تو بات سمجھنا آسان ہو جائے گی۔ تو شروع کرتے ہیں:
  1. لکھتے ہیں: اخباروں میں دارالعلوم دیوبند کا چار سال پرانا بیان ڈاکٹر ذاکر کی مذمت میں شائع کیا گیا ہے […] اب گالیاں دینے والوں کا رخ دارالعلوم دیوبند کی طرف ہوجائے گا۔ جب دلیل سے کام نہیں چلا تو فتووں کے سہارے کی ضرورت پڑ گئی! دارالعلوم کے جس فتوے کی آپ بات کرہے ہیں وہ مسلکی نوعیت کا ہے اور اس پر خود دارالعلوم کا بیان آیا ہے کہ ان کے فتووں کو ڈاکٹر ذاکر کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔ مسلکی فتوے کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنا کیا دور کی کوڑی نہیں ہے؟
  2. لکھتے ہیں: ہندوستانی مسلمانوں نے ایک بار پھر دانش مندی کا ثبوت دیتے ہوئے ایک بڑی سازش کو ناکام بنادیا کہ پہلے جانے پہچانے کسی چہرے کو نشانہ بنایا جائے اور جب سب اس کی حمایت میں اتر آئیں تو پورے ملک کے مسلمانوں کو دہشت گردی کا حامی اور ہندوؤں کا دشمن قرار دے دیا جائے۔ حیرت ہے! اسی جانب تو تمام دردمندان ملت آپ کی توجہ مبذول کرارہے تھے۔ لیکن آپ کا اپنا کردار اس سلسلے میں کیا رہا؟ آپ نے تو ایک جانے پہچانے چہرے کو دہشت گردی سے جوڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی!
  3. لکھتے ہیں: ایسے حالات میں ہمارے پاس دو ہی راستے تھے […] (خاموش رہ کر) تماشہ دیکھنا […] ( یا) سازش کو ناکام کرنے کے لیے دنیا کو بتانا کہ مسلمانوں کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمیں کہنا پڑے گا کہ افسوس آپ بھی اس سازش کا شکار ہو گئے۔ اگرچہ بزعم خود آپ نے مسلمانوں کا دفاع کیا۔ 
  4. لکھتے ہیں: جب ہم نے سادھوی پرگیہ، پروین توگڑیا، اشوک سنگھل، یوگی آدتیہ ناتھ، ساکھشی مہاراج، امت شاہ، سادھوی پراچی سے لے کر سنگھ پریوار کے ہر ایسے لیڈر کے خلاف لکھا جو ملک میں مذہبی تعصب پھیلا رہا تھا تب کسی نے ہم کو کسی کا ایجنٹ نہیں کہا؟ یہ بھی ایک ہی رہی۔ جانتے ہیں ان تمام لوگوں میں ایک مشترک بات کیا ہے؟ یہ تمام لوگ وہ ہیں جو یا تو دہشت گردی کے واقعات میں راست ملوث ہیں، یا پھر مذہبی نفرت انگیزی اور شر پسندی کے لیے بدنام ہیں۔ علاوہ ازیں یہ وہی لوگ ہیں جنہیں ہندوستان میں مسلمانوں کا وجود پسند نہیں۔ ان کا موازنہ ذاکر نائیک سے کرنا آپ کے نزدیک قرین انصاف ہے؟ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔ 
  5. لکھتے ہیں: (ہمارے خلاف لکھنے والے) کچھ لوگ ایسے بھی شامل ہیں جن کے سنگھ پریوار سے اتنے گہرے رشتے ہیں کہ سنگھ کے لیے اردو کا سارا کام وہی کرتے ہیں۔ ہم نہیں جانتے یہ کنایہ کس کی جانب ہے؟ لیکن پیشہ ورانہ طور پر سنگھ کے لیے کوئی کام کرنا ایک الگ بات ہے اور مفت میں سنگھ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا بالکل دوسری۔ یقیناً دونوں قبیح فعل ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ اول الذکرمیں تو کسی کے پاپی پیٹ کا سوال ہے ۔ آپ بتائیں آپ نے آخرالذکرکو، یعنی سنگھ کے ایجنڈے کو مفت میں کیوں آگے بڑھایا؟ ہم آپ سے حسن ظن رکھتے ہیں اس لیے ہم نہیں سمجھتے کہ آپ نے یہ کسی رتبے، صلے یا خوشنودی کے لیے کیا ہوگا۔ 
  6. لکھتے ہیں: ذاکر نائیک کی حمایت میں جن لوگوں نے فیس بک پر لکھا ان میں سے کئی نے دہشت گردی کی کھل کر ستائش کی اور اس کو جائز ٹھہرایا۔ (آگے کچھ متشدد افراد کے کمنٹس کو نقل کرتے ہیں۔) العوام کالانعام ۔ ہر طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اتنے سارے تبصروں میں کیا آپ کو کوئی تبصرہ معقول نہیں لگا؟ کیا تمام لوگوں نے متشدد تبصرے کیے تھے؟ 
  7. لکھتے ہیں: میں نے وہ ویڈیو دیکھا ہے جس میں ذاکر نائیک نے اسامہ بن لادن کے بارے کہا ہے کہ وہ امریکہ جیسے دہشت گرد کو دہشت میں مبتلا کررہا ہے اس لیے وہ اسامہ کے ساتھ ہیں […] ہاں یہ بات سچ ہے کہ اب انہوں نے داعش کی مخالفت میں کھل کر بیان دیا ہے۔ ہر چند کہ یہ ذاتی موقف کی بات ہے لیکن اطلاعاً عرض ہے کہ ذاکر نائیک نے اس ویڈیو کاا نکار کیا ہے اور کہا ہے کہ اسے forge کیا گیا ہے۔ انہوں نے اسامہ کے ساتھ ہونے کی بات نہیں کی تھی۔ یہ ان کی حالیہ جاری کی گئی وضاحتی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ویسے آپ تاریخ کیسے بھول گئے؟ یاد نہیں اسامہ بن لادن امریکہ کے لیے ایک زمانے میں ایجنٹ تھا ۔ بعد میں جب امریکہ کا الو سیدھا ہو گیا تو اس سے پیچھا چھڑانے کے لیے اپنے ہی ایجنٹ کو اس نے دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد قرار دے دیا۔ قطع نظر اس کے اسامہ نے نائین الیون کو انجام دیا یا نہیں اور امریکہ کے پاس اس کے کیا ثبوت ہیں ، یہ بات جگ ظاہر ہے کہ وار آن ٹیرر کے لیے مریکہ کو کوئی بہانہ چاہیے تھا اور اسامہ کے نام پر اس نے یہ کام آسانی سے انجام دے لیا۔ اسامہ کو تو امریکہ نے دہشت گرد قرار دیا تھا کیا کبھی اس نے ہندوستان پر بھی دہشت گردانہ کارروائی کی تھی؟اس بحث سے یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم اسامہ کی حمایت کررہے ہیں۔ خواہ کوئی بھی ہو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور میڈیا کی لَے میں لَے ملاکر کسی کو دہشت گرد گرداننا معروضیت اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کے منافی ہے۔ آپ جیسے صحافی کیسے اس دام میں آگئے؟
  8. لکھتے ہیں: (اس اعتراض کے جواب میں کہ انہوں نے مخالفین کے تبصروں کو اپنی فیس بک وال سے ڈیلیٹ کیوں کیا۔) میرے دس ہزار فیس بک فرینڈس اور چار ہازار فالوورز ہیں جن میں صرف پچاس ساٹھ افراد نے میری مخالفت کی […] میں نے انہیں بلاک کرکے کمنٹس کو ڈیلیٹ کرنا ہی مناسب سمجھا۔ یعنی آپ نے اپنے چودہ ہزار مداحوں کے حلقے کو تمام مخالف عناصر سے پاک کردیا۔ مبارک ہو۔ اب کوئی کرکے دکھائے تو مخالف کمنٹ!


شاید آپ کو یہ بھی پسند آئیں