نعت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

نعت رسولِ خیرالانام ﷺ




وراے سدرہ وہ نقشِ دوام آپؐ کا ہے 
کہ انتہا سے بھی آگے مقام آپؐ کا ہے

جمال، حرف، نظر، روشنی، ادا، خوشبو
صد استعارہ کمال و تمام آپؐ کا ہے

حضورِ ایزدی چرچا مدام ہے ان کا 
زباں پہ جن کی شب و روز نام آپؐ کا ہے

وہی جہاں میں ہے بس احترام کے لائق
غلام جو بھی اے خیر الانام آپؐ کا ہے  

تمام دنیا کو ہے آپؐ کا پیام نوید
تمام خلق پہ رحمت نظام آپؐ کا ہے

چمن چمن میں درودوں کے زمزمے ہیں مدام 
کلی کلی کی چٹک میں  سلام آپؐ کا ہے


ہزار راہِ محبت میں آئے دشواری
وفاشعار مگر مست گام آپؐ کا ہے

زہے کہ نوکِ قلم آج نعتِ پاک ہوئی
خوشا کہ وردِ زباں آج نام آپؐ کا ہے

وحیدؔ بھی ہے طلب گارِ کوثر و تسنیم
اگرچہ وہ بہت ادنیٰ غلام آپؐ کا ہے


نعت رسول پاکﷺ




حیات آفریں سب انقلاب اُنؐ کے ہیں
 ازل سے جو بھی ہیں روشن نصاب اُنؐ کے ہیں

غلام سارے ہی عزت مآب اُنؐ کے ہیں
تمام ذرے  بنے آفتاب اُنؐ کے ہیں

 اگرچہ جاں سے گزرنا ہے دشتِ حق کا سفر
 وفا شعار مگر فوزیاب اُنؐ کے ہیں

فضا ہے ساری معطر بفیضِ ذکرِ نبیؐ
 مشامِ جاں میں مہکتے گلاب اُنؐ کے ہیں

 جو اُنؐ کے جادے سے بھٹکی وہ زیست زیست نہیں
 رہِ حیات کے سارے نصاب اُنؐ کے ہیں

 اُنھیںؐ کی نعتِ مسلسل جسے کہیں قرآں
 سخن خدا کا، ثناؤں کے باب اُنؐ کے ہیں

 ہمیں توازنِ فکر و نظر ملا اُنؐ سے
 درونِ ذات کُھلے ہیں جو باب اُنؐ کے ہیں

ہماری نیند سدا اُنؐ کی تشنۂ دیدار
 ہماری جاگتی آنکھوں میں خواب اُنؐ کے ہیں

 جہاں میں لوگ وہی خوش نصیب ہیں عرفانؔ
 ’’درِ نیاز سے جو باریاب اُنؐ کے ہیں‘‘