ناانصافی کی بدترین شکل


۲۰۰۵ مین سروجنی نگر دہلی میں دھماکوں سے جلی  ہوئی گاڑیوں کا ایک منظر۔ فوٹو بشکریہ ہندوستان ٹائمز۔

جمعرات کو (یعنی ۱۶ فروری کو) دلی کے پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے ۲۰۰۵ء میں ہونے والے دلی کے سروجنی نگر، پہاڑ گنج اور کالکا جی کے سلسلےوار دھماکوں کے دو ملزمین کو گیارہ سال تک انڈر ٹرائل رکھنے کے بعد باعزت طور پر بری کردیا جبکہ ایک تیسرے ملزم کو ۱۰ سال کی سزا سنائی گئی ہے۔ ۲۰۰۵ء میں دیوالی سے ایک روز قبل ہونے والے ان تین دھماکوں میں ساٹھ افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے تھے جن میں بچے ، بوڑھے اور خواتین بھی شامل تھیں۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ گرفتار شدگان تینوں ملزمین کا تعلق کشمیر سے تھا۔
بری ہونے والے ایک نوجوان رفیق شاہ کی ماں کے مطابق مذکورہ دھماکےکے دن اس کا بیٹا سری نگر میں کالج کی کلاس اٹینڈ کررہا تھا۔ وہ ان دنوں ایم اے کررہا تھا۔ رفیق کی ماں، محبوبہ یاسین کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا بالکل بے گناہ تھا۔وہ کبھی دلی آیا ہی نہیں تھا۔ ’’انہوں نے فرضی معاملے میں میرے بیٹے کے دس سال چھین لیے ۔ آخر ہمیں یہ دس سال کون واپس دے گا؟‘‘
ایسا نہیں ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا معاملہ ہو۔ اس سے قبل بھی ایسے متعدد معاملات میں ملزمین کو عدالتوں نے بری کیا ہے۔ عامر خان کو ۱۹۹۸ء میں دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے گرفتار کیا تھا اور اس پر اُنّیس بم دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔ ۱۴ سال بعد تمام الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے اور اسے باعزت رہا کردیا گیا۔ ارشاد علی اور معروف قمر کو دہلی کے اسپیشل سیل نے سازش اور ہتھیار رکھنے کے جرم میں ۲۰۰۶ء میں گرفتار کیا۔ دہلی سیشن کورٹ نے الزامات ثابت نہ ہونے پر گیارہ سال بعد رہا کر دیا۔ خورشید احمد بھٹ کو ۲۰۰۵ء میں مختلف الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا اور ۲۰۱۱ء میں بری کردیا گیا۔ ارشاد احمد ملک پر دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کے ساتھ لنک ہونے کاچارج لگایا گیا اور برسوں بعد پولیس کے ذریعے لگائے گئے کسی بھی الزام کے ثابت نہ ہونے کے بعد اسے رہا کردیا گیا۔ ایاز احمد شاہ عرف اقبال کو ۲۰۰۴ء میں دہلی کے اسپیشل سیل نے پکڑا تھا۔ اقبال کے معاملے کو غیر سنجیدگی سے لینے کے لیے عدالت نے پولیس کی سخت سرزنش کی اورا قبال پرلگائے گئے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر بری کردیا۔ 
حالیہ واقعہ میں تینوں ملزمین، محمد رفیق شاہ، محمد حسین فضلی اور طارق دار، کو ۲۰۰۶ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر دہشت گردی سمیت متعدد الزامات عائد کیے گئے تھے۔ محمد رفیق شاہ ایک طالب علم تھا۔ محمد حسین فضلی دہلی میں چادریں فروخت کرتا تھا ، جبکہ طارق دار ایک کمپنی میں سیلز مین تھا۔ عدالت نے پولیس کے ذریعے لگائے گئے تمام چارج بے بنیاد ثابت ہونے پر اول الذکر اور ثانی الذکر کو بری کردیا جبکہ تیسرے ملزم طارق دار کو ۱۰ سال کی قیدکی سزا سنائی۔ چونکہ تینوں ملزمین گیارہ سال جیل میں انڈر ٹرائل رہ چکے ہیں اس لیے طارق بھی بَری قرار دیا جائے گا۔
طارق دو بچوں کا باپ ہے جو ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازم تھا۔ اس کے گھر والوں کا الزام ہے کہ پولیس نے اسے ۱۰ نومبر کو کشمیر سے اغوا کیا تھا اور جھوٹے الزام میں پھنساکر جیل میں ڈال دیا تھا۔
پولیس کی ’مستعدی ‘ اور عدالتی ’انصاف ‘ کی یہ محض چند مثالیں ہیں، ورنہ اب بھی نہ جانے کتنے بے گناہ جیلوں کے اندر امید وبیم کے درمیان انتہائی کسمپرسی کی حالت میں انصاف کی راہ تک رہے ہیں۔ 
ہر بے گناہ کے چھوٹ جانے پر سب سے بڑا سوال یہی اٹھتا ہے کہ اگر وہ مجرم نہیں تھا تو اصل مجرم کہاں ہے؟  کیا عدالتوں کے ذریعے ملزمین کو بری کردیے جانے سے بعد بم دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات کے معاملات کا فیصلہ ہوگیا؟ اگر ہاں، تو پھر اس کا یہی مطلب یہ ہے کہ اصل مجرم آج بھی کھلے گھوم رہے ہیں  اور بے گناہوں کی آزادی کی قیمت پر،عدلیہ کے قیمتی وقت کی قیمت پر اور سماج کے امن اور سکون کی قیمت پر اپنی آزادی  کا جشن منارہے ہیں۔ کیا پولیس نے اس پورے عرصے میں اصل مجرموں کی پردہ پوشی نہیں کی؟ کیا عدالتیں ان تمام معاملات میں بری ہونے والے بے گناہ ملزمین کو ہرجانہ دلائیں گی؟ ان کے روزگار اور خاندان کی کفالت کا انتظام کریں گی؟ کیا عدالتوں کو نئے سرے سے ان تمام معاملات کو نہیں کھلوانا چاہیے جن میں تمام یا بیشتر ملزمین بری ہوجاتے ہیں ، اور اصل مجرمین کو کیفر کردار تک پہنچانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے؟ کیا پولیس اہل کاروں نے بے گناہوں کو جھوٹے، فرضی اور بے بنیاد معاملات میں پھنساکر انصاف کا قتل نہیں کیا؟ کیا ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہونی چاہیے؟ کیا خاطی پولیس اہل کاروں کے خلاف سخت ترین قانون نہیں بننے چاہئیں؟
افسوس تو یہ ہے کہ فرضی انکاؤنٹروں اور فرضی معاملات میں پھنسانے والے پولیس اہل کاروں کو ایوارڈ دیے جاتے ہیں۔ دور کیوں جائیے۔ گزشتہ سال مدھیہ پردیش میں جیل سے فرار ہونے والے مبینہ دہشت گردوں کے انکاؤنٹر وں کا معاملہ اور ریاستی حکومت کا اس میں ملوث پولیس اہل کاروں کو انعامات سے سرفراز کیے جانے کا واقعہ ابھی عوامی یادداشت سے محو نہیں ہوا ہے۔ 
کہتے ہیں کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے اور انصاف کا قاعدہ یہ ہے کہ خواہ مجرم چھوٹ جائے لیکن بے گناہ کو سزا نہیں ہونی چاہیے۔ بے گناہوں کو ناکردہ گناہوں کی سزا دینا ناانصافی کی بدترین شکل ہے۔ دہشت گردی کے واقعات کے مہلوکین کو انصاف دلانے کی صورت اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو سکتی کہ اصل مجرموں کو عدالتیں قرار واقعی سزا دیں۔ساتھ ہی ریاستی نظام کے ہاتھوں گناہِ ناکردہ کی پاداش میں جبر ڈھونے والے معصوموں کے معاشی و سماجی مقام کی بازیابی کا سوال بھی عدلیہ و مقننہ سے مناسب حل کامنتظرہے۔

نعت رسولِ خیرالانام ﷺ




وراے سدرہ وہ نقشِ دوام آپؐ کا ہے 
کہ انتہا سے بھی آگے مقام آپؐ کا ہے

جمال، حرف، نظر، روشنی، ادا، خوشبو
صد استعارہ کمال و تمام آپؐ کا ہے

حضورِ ایزدی چرچا مدام ہے ان کا 
زباں پہ جن کی شب و روز نام آپؐ کا ہے

وہی جہاں میں ہے بس احترام کے لائق
غلام جو بھی اے خیر الانام آپؐ کا ہے  

تمام دنیا کو ہے آپؐ کا پیام نوید
تمام خلق پہ رحمت نظام آپؐ کا ہے

چمن چمن میں درودوں کے زمزمے ہیں مدام 
کلی کلی کی چٹک میں  سلام آپؐ کا ہے


ہزار راہِ محبت میں آئے دشواری
وفاشعار مگر مست گام آپؐ کا ہے

زہے کہ نوکِ قلم آج نعتِ پاک ہوئی
خوشا کہ وردِ زباں آج نام آپؐ کا ہے

وحیدؔ بھی ہے طلب گارِ کوثر و تسنیم
اگرچہ وہ بہت ادنیٰ غلام آپؐ کا ہے


نعت رسول پاکﷺ




حیات آفریں سب انقلاب اُنؐ کے ہیں
 ازل سے جو بھی ہیں روشن نصاب اُنؐ کے ہیں

غلام سارے ہی عزت مآب اُنؐ کے ہیں
تمام ذرے  بنے آفتاب اُنؐ کے ہیں

 اگرچہ جاں سے گزرنا ہے دشتِ حق کا سفر
 وفا شعار مگر فوزیاب اُنؐ کے ہیں

فضا ہے ساری معطر بفیضِ ذکرِ نبیؐ
 مشامِ جاں میں مہکتے گلاب اُنؐ کے ہیں

 جو اُنؐ کے جادے سے بھٹکی وہ زیست زیست نہیں
 رہِ حیات کے سارے نصاب اُنؐ کے ہیں

 اُنھیںؐ کی نعتِ مسلسل جسے کہیں قرآں
 سخن خدا کا، ثناؤں کے باب اُنؐ کے ہیں

 ہمیں توازنِ فکر و نظر ملا اُنؐ سے
 درونِ ذات کُھلے ہیں جو باب اُنؐ کے ہیں

ہماری نیند سدا اُنؐ کی تشنۂ دیدار
 ہماری جاگتی آنکھوں میں خواب اُنؐ کے ہیں

 جہاں میں لوگ وہی خوش نصیب ہیں عرفانؔ
 ’’درِ نیاز سے جو باریاب اُنؐ کے ہیں‘‘


جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے


شکیل شمسی کے حالیہ کالم پر تبصرہ

ایک امریکی مصنف کا مقولہ ہے کہ 'ہٹ دھرمی اچھی بھی ہو سکتی ہے اور بری بھی۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اسے کیسے استعمال کرتے ہیں۔'  ہٹ دھرمی کیسے کسی پر اثر انداز ہوتی ہے اور کس طرح بھلے برے کی تمیز چھین لیتی ہے اس کی حالیہ مثال شمسی صاحب ہیں جنہوں نے اپنے گزشتہ دو اداریوں کے بعد ایک اور اداریہ ڈاکٹر ذاکر نائیک پر لکھ مارا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ احباب کے بار بار سمجھانے پر اور ان کی لغزشوں کی نشان دہی کے بعد اپنے موقف پر نظر ثانی کرتے، اتحاد ملت کی خاطر اپنی رائے سے رجوع کرتے اور جو حق ہے اسی کا ساتھ دیتے۔ اگر ایسا نہیں کرسکتے تھے تو کم از کم خاموشی اختیار کر لیتے۔ لیکن ہائے رے پندار اور انا کی فتنہ سامانیاں، ان کا ۱۱ جولائی کا کالم بھی ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف مغالطہ انگیزی کی نذر ہو گیا۔ آپ نے آج کے 'موضوع گفتگو' میں شکوہ کیا ہے کہ فیس بک پر بہت سے لوگ اپنے ٹوٹے پھوٹے قلم میز کی درازوں سے نکال کر انقلاب کی مخالفت میں ٹوٹ پڑے۔ کیوں نہ ٹوٹتے، وقت کی نزاکت یہی کہتی ہے کہ اپنے ہوں یا اغیار، زہر ہلاہل کو زہر ہلاہل ہی کہا جائے اگر اسے مصلحت میں قند قرار دیا جائے گا تو آنے والا وقت ملت کو اس کی مصلحت کوشی اور جانب داری  کے لیے کبھی معاف نہیں کرے گا۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف مدیر انقلاب نے اس تیسری قسط میں اگرچہ اس بار قسط نمبر نہیں لکھا لیکن یہ سلسلہ پہلی دو اقساط ہی کا تسلسل ہے۔ اس کالم میں ان کی بدحواسی صاف عیاں ہے آپ دیکھیں گے کہ آج کا اداریہ غیر مربوط تو ہے ہی، ساتھ ہی حسب سابق انہوں نے جگہ جگہ ٹھوکریں کھائی ہیں ۔ ہم ان کی باتوں پر انتہائی اختصار کے ساتھ تبصرہ کریں گے۔ ہمارامقصد ان کی  توہین یا دل آزاری کرنا نہیں ہے۔ لیکن ہم وہی کہیں گے جو حق ہے خواہ یہ کسی کو برا ہی کیوں نہ لگے۔ ان کے کالم کو اگر ہم مختصر اجزا میں تقسیم کرلیں تو بات سمجھنا آسان ہو جائے گی۔ تو شروع کرتے ہیں:
  1. لکھتے ہیں: اخباروں میں دارالعلوم دیوبند کا چار سال پرانا بیان ڈاکٹر ذاکر کی مذمت میں شائع کیا گیا ہے […] اب گالیاں دینے والوں کا رخ دارالعلوم دیوبند کی طرف ہوجائے گا۔ جب دلیل سے کام نہیں چلا تو فتووں کے سہارے کی ضرورت پڑ گئی! دارالعلوم کے جس فتوے کی آپ بات کرہے ہیں وہ مسلکی نوعیت کا ہے اور اس پر خود دارالعلوم کا بیان آیا ہے کہ ان کے فتووں کو ڈاکٹر ذاکر کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔ مسلکی فتوے کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنا کیا دور کی کوڑی نہیں ہے؟
  2. لکھتے ہیں: ہندوستانی مسلمانوں نے ایک بار پھر دانش مندی کا ثبوت دیتے ہوئے ایک بڑی سازش کو ناکام بنادیا کہ پہلے جانے پہچانے کسی چہرے کو نشانہ بنایا جائے اور جب سب اس کی حمایت میں اتر آئیں تو پورے ملک کے مسلمانوں کو دہشت گردی کا حامی اور ہندوؤں کا دشمن قرار دے دیا جائے۔ حیرت ہے! اسی جانب تو تمام دردمندان ملت آپ کی توجہ مبذول کرارہے تھے۔ لیکن آپ کا اپنا کردار اس سلسلے میں کیا رہا؟ آپ نے تو ایک جانے پہچانے چہرے کو دہشت گردی سے جوڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی!
  3. لکھتے ہیں: ایسے حالات میں ہمارے پاس دو ہی راستے تھے […] (خاموش رہ کر) تماشہ دیکھنا […] ( یا) سازش کو ناکام کرنے کے لیے دنیا کو بتانا کہ مسلمانوں کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمیں کہنا پڑے گا کہ افسوس آپ بھی اس سازش کا شکار ہو گئے۔ اگرچہ بزعم خود آپ نے مسلمانوں کا دفاع کیا۔ 
  4. لکھتے ہیں: جب ہم نے سادھوی پرگیہ، پروین توگڑیا، اشوک سنگھل، یوگی آدتیہ ناتھ، ساکھشی مہاراج، امت شاہ، سادھوی پراچی سے لے کر سنگھ پریوار کے ہر ایسے لیڈر کے خلاف لکھا جو ملک میں مذہبی تعصب پھیلا رہا تھا تب کسی نے ہم کو کسی کا ایجنٹ نہیں کہا؟ یہ بھی ایک ہی رہی۔ جانتے ہیں ان تمام لوگوں میں ایک مشترک بات کیا ہے؟ یہ تمام لوگ وہ ہیں جو یا تو دہشت گردی کے واقعات میں راست ملوث ہیں، یا پھر مذہبی نفرت انگیزی اور شر پسندی کے لیے بدنام ہیں۔ علاوہ ازیں یہ وہی لوگ ہیں جنہیں ہندوستان میں مسلمانوں کا وجود پسند نہیں۔ ان کا موازنہ ذاکر نائیک سے کرنا آپ کے نزدیک قرین انصاف ہے؟ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔ 
  5. لکھتے ہیں: (ہمارے خلاف لکھنے والے) کچھ لوگ ایسے بھی شامل ہیں جن کے سنگھ پریوار سے اتنے گہرے رشتے ہیں کہ سنگھ کے لیے اردو کا سارا کام وہی کرتے ہیں۔ ہم نہیں جانتے یہ کنایہ کس کی جانب ہے؟ لیکن پیشہ ورانہ طور پر سنگھ کے لیے کوئی کام کرنا ایک الگ بات ہے اور مفت میں سنگھ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا بالکل دوسری۔ یقیناً دونوں قبیح فعل ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ اول الذکرمیں تو کسی کے پاپی پیٹ کا سوال ہے ۔ آپ بتائیں آپ نے آخرالذکرکو، یعنی سنگھ کے ایجنڈے کو مفت میں کیوں آگے بڑھایا؟ ہم آپ سے حسن ظن رکھتے ہیں اس لیے ہم نہیں سمجھتے کہ آپ نے یہ کسی رتبے، صلے یا خوشنودی کے لیے کیا ہوگا۔ 
  6. لکھتے ہیں: ذاکر نائیک کی حمایت میں جن لوگوں نے فیس بک پر لکھا ان میں سے کئی نے دہشت گردی کی کھل کر ستائش کی اور اس کو جائز ٹھہرایا۔ (آگے کچھ متشدد افراد کے کمنٹس کو نقل کرتے ہیں۔) العوام کالانعام ۔ ہر طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اتنے سارے تبصروں میں کیا آپ کو کوئی تبصرہ معقول نہیں لگا؟ کیا تمام لوگوں نے متشدد تبصرے کیے تھے؟ 
  7. لکھتے ہیں: میں نے وہ ویڈیو دیکھا ہے جس میں ذاکر نائیک نے اسامہ بن لادن کے بارے کہا ہے کہ وہ امریکہ جیسے دہشت گرد کو دہشت میں مبتلا کررہا ہے اس لیے وہ اسامہ کے ساتھ ہیں […] ہاں یہ بات سچ ہے کہ اب انہوں نے داعش کی مخالفت میں کھل کر بیان دیا ہے۔ ہر چند کہ یہ ذاتی موقف کی بات ہے لیکن اطلاعاً عرض ہے کہ ذاکر نائیک نے اس ویڈیو کاا نکار کیا ہے اور کہا ہے کہ اسے forge کیا گیا ہے۔ انہوں نے اسامہ کے ساتھ ہونے کی بات نہیں کی تھی۔ یہ ان کی حالیہ جاری کی گئی وضاحتی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ویسے آپ تاریخ کیسے بھول گئے؟ یاد نہیں اسامہ بن لادن امریکہ کے لیے ایک زمانے میں ایجنٹ تھا ۔ بعد میں جب امریکہ کا الو سیدھا ہو گیا تو اس سے پیچھا چھڑانے کے لیے اپنے ہی ایجنٹ کو اس نے دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد قرار دے دیا۔ قطع نظر اس کے اسامہ نے نائین الیون کو انجام دیا یا نہیں اور امریکہ کے پاس اس کے کیا ثبوت ہیں ، یہ بات جگ ظاہر ہے کہ وار آن ٹیرر کے لیے مریکہ کو کوئی بہانہ چاہیے تھا اور اسامہ کے نام پر اس نے یہ کام آسانی سے انجام دے لیا۔ اسامہ کو تو امریکہ نے دہشت گرد قرار دیا تھا کیا کبھی اس نے ہندوستان پر بھی دہشت گردانہ کارروائی کی تھی؟اس بحث سے یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم اسامہ کی حمایت کررہے ہیں۔ خواہ کوئی بھی ہو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور میڈیا کی لَے میں لَے ملاکر کسی کو دہشت گرد گرداننا معروضیت اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کے منافی ہے۔ آپ جیسے صحافی کیسے اس دام میں آگئے؟
  8. لکھتے ہیں: (اس اعتراض کے جواب میں کہ انہوں نے مخالفین کے تبصروں کو اپنی فیس بک وال سے ڈیلیٹ کیوں کیا۔) میرے دس ہزار فیس بک فرینڈس اور چار ہازار فالوورز ہیں جن میں صرف پچاس ساٹھ افراد نے میری مخالفت کی […] میں نے انہیں بلاک کرکے کمنٹس کو ڈیلیٹ کرنا ہی مناسب سمجھا۔ یعنی آپ نے اپنے چودہ ہزار مداحوں کے حلقے کو تمام مخالف عناصر سے پاک کردیا۔ مبارک ہو۔ اب کوئی کرکے دکھائے تو مخالف کمنٹ!


شمسی صاحب آپ کامیاب ہوگئے



روزنامہ انقلاب کے مدیر شکیل شمسی کے مداحوں میں میں بھی شامل ہوں۔ ہر صبح چائے کی چسکیوں کے ساتھ ان کا اداریہ نہ صرف حالات حاضرہ سے باخبر کرتا ہے بلکہ ان پر ایک متوازن رائے بھی دیتا ہے۔ موصوف شیعہ سنی یکجہتی اور اتحاد ملت کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ ان کے کالم گہرے مطالعے اور سیاسی بصیرت کے حامل ہوتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اپنے روزنامے میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف ایک  دل آزار اداریہ رقم کیا ہے (ماخذ: روزنامہ انقلاب)۔ یہ بات ان کے مداحوں کے لیے کسی صدمے سے کم نہیں تھی۔ صدمہ اس لیے نہیں  تھا کہ انہوں نے ذاکر نائیک کے خلاف لکھا بلکہ ایسے وقت میں لکھا جب  تمام الیکٹرانک  اور پرنٹ میڈیا  نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف کمر کس لی ہے اور ایک طوفان بے تمیزی میں برپا کر رکھا ہے ۔   یہ حملہ بظاہر ڈاکٹر ذاکر کی ذات پر ہے لیکن ان کے نشانے پر تمام دعوتی اور دینی ادارے ہیں، اگرچہ ابھی ان کا نمبر آنا باقی ہے۔
شمسی صاحب کااداریہ کیا ہے جھوٹ اور بے بنیاد الزامات کا پلندہ ہے۔  پورا مضمون معروضیت سے خالی ہے۔ خیر ہم حسن ظن سے کام لیں گے۔ اخباری اداریوں میں اتنی جگہ نہیں ہوتی کہ الزامات اور دعووں کی دلیل میں ماخذ بیان کیے جاسکیں۔ تاہم شمسی صاحب نے ڈاکٹر ذاکر نائیک جیسی شخصیت پر جب بہتان طرازی کا ارادہ کیا تھا تو کم سے کم وہ اتنا تو کرہی سکتے تھے کہ اتنا اشارہ کردیتے کہ یہ باتیں انہیں آیا ان کے استعماری میڈیا کے دوستوں نے بتائیں یا خود انہوں نے براہ راست ڈاکٹر ذاکر نائک کی تقریروں  اور کتابوں سے استفادہ کیا۔ لیکن آخرالذکر سے استفادہ اگر وہ کرتے تو شاید ان کے مضمون کا رخ اور تیور وہ نہ ہوتا جو ہے۔ ان کی پیش کردہ کم و بیش تمام آراء وہی ہیں جو ان دنوں میڈیا ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف اگل رہا ہے۔ حتی کہ ان پر دہشت گردوں کی حمایت کا الزام بھی شمسی صاحب نے میڈیا سے اچک لیا ہے جس کی تردید خود ڈاکٹر ذاکر نائیک بھی کرچکے ہیں (ماخذ: یوٹیوب) ۔
شمسی صاحب کہتے ہیں  کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک ایک خاص مسلک کے ترجمان ہیں اور مسلمانوں کے درمیان مختلف فرقوں کے درمیان اختلافات کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ یہ بہتان ایک ایسے شخص کے بارے میں ہے جس نے اپنی پوری زندگی اتحاد امت اور دین حق کی سر بلندی کے لیے وقف کردی ہے۔ (ماخذ: یوٹیوب ویڈیو، اتحاد امت پر ملیشیا میں خطاب) حقیقتاً ڈاکٹر ذاکر نائیک اپنی تقریروں میں کسی بھی مخصوص فرقے کی ترجمانی نہیں کرتے بلکہ قرآن اور احادیث کی بات کرتے ہیں۔  اگر قرآن اور احادیث سے بعض فرقوں کے مزعومہ عقائد مجروح ہوتے ہوں تو ہوں۔ اگر یہ مسلکی افتراق کو ہوا دینا ہے تو ہاں ڈاکٹر ذاکر نائیک اس کے مرتکب ہیں، وہ کسی مسلک کی طرف نہیں بلاتے بلکہ خالص دین اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔
شمسی صاحب رقم طراز ہیں کہ آج ڈاکٹر ذاکر پر جو حملے ہو رہے ہیں ان کے لیے خود ذاکر نائیک ذمہ دار ہیں۔ غالباً شمسی صاحب نے اسلامی تاریخ نہیں پڑھی جو ایسی بہکی بہکی باتیں کررہے ہیں۔ ہاں ، داعیان اسلام اپنے اوپر آنے والی ابتلاء و آزمائش کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ لیکن کیا ان پر یہ مصائب اس بنا پر آتے ہیں کہ دعوتی مشن سے ان کا ذاتی مفاد وابستہ ہوتا ہے یا پھر اس پاداش میں کہ وہ اعلائے کلمۃاللہ کے لیے کھڑے ہوتے ہیں اور باطل قوتوں کو یہ بات ناپسند ہوتی ہے اور وہ طاغوت کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے سبب گرفتار مصیبت ہوتے ہیں؟
اپنے اداریے کی دوسری قسط  (ماخذ: سنڈے انقلاب) میں (جی ہاں، یہ اداریہ انہوں نے دو قسطوں میں لکھا ہے، گویا ایک قسط میں ان کی بھڑاس پوری طرح نہیں نکل پائی۔ ) شمسی صاحب  لکھتے ہیں کہ" میرےاس مضمون کی پہلی قسط پڑھ کر اردو کے کچھ صحافی، قلمکار اور ذاکر نائیک کے حامی میری پوسٹ پر ٹوٹ پڑے۔ لیکن نہ تو کوئی ذاتی ، مسلکی اور نظریاتی الزامات سے آگے بڑھ سکا اور نہ کوئی تردید کرسکا۔"
مزے کی بات یہ ہے کہ شمسی صاحب نے اپنے اوپر تنقید کرنے والوں پر تو یہ الزام لگایا ہے کہ ان میں سے کوئی نظریاتی و مسلکی الزامات سے آگے نہ بڑھ سکا اور نہ ان کی کسی بات کی تردید نہیں کرسکا لیکن خود ڈاکٹر ذاکر نائیک جیسے مبلغ اسلام پر نکتہ چینی کرتے ہوئے تمام معروضیت کو بالائے طاق رکھ دیا۔ حالانکہ اگر وہ آنکھیں کھول کر ان تبصروں کو ہی پڑھ لیتے جو ان کی فیس بک پر پوسٹ پر کیے گئے تھے تو انہیں ان میں اپنی باتوں کی مدلل تردید مل جاتی۔  لیکن اگر قارئین ان کے فیس بک وال پر جائیں گے تو حقیقت کھل جائے  گی کہ شمسی صاحب کتنے روادار واقع ہوئے ہیں۔ ان تمام تبصروں کو انہوں نے اپنی پوسٹ سے ہٹا دیا  ہے جو ان کے خلاف تھے اور صرف انہیں کو باقی رہنے دیا جو ان کی تائید میں ہیں۔
بلادلیل شمسی صاحب فرماتے ہیں کہ ذاکر نائیک میں فکر صالح نہیں ہے (اگرچہ یہ ایک ذاتی نوعیت کا معاملہ ہے جس کا صحیح علم اللہ رب العزت ہی کو ہے ، شمسی صاحب جیسے منجھے ہوئے قلمکار کی طرف سے یہ بات عجیب ہی نہیں بلکہ بچکانہ بھی ہے)۔  وہ ان کے 'مسلمانوں کو دہشت گرد ہونا چاہیے ' والے تبصرے کو بھی اسی انداز میں سیاق و سباق سے ہٹاکر پیش کرتے ہیں جس طرح ان کے سنگھی یار لوگوں اور میڈیا نے کیا ہے۔ اس کی تردید ڈاکٹر ذاکر نائک کی ویڈیو میں کی گئی ہے کہ ان کا یہ جملہ سیاق  سے ہٹا کر پیش کیا جارہا ہے جس میں انہوں نے مسلمانوں کو غیر سماجی عناصر کے خلاف  سخت گیر رویہ اپنانے کی ہدایت کی تھی۔ اگرا یسا کہنا جرم ہے تو شمسی صاحب اقبال کے اس شعر کو کس زمرے میں رکھیں گے:
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل و ہو تو فولاد ہے مومن
انہوں نے ڈاکٹر ذاکر نائیک پر مختلف فرقوں کے درمیان اختلافات کو بڑھاوا دینے کا الزام بھی عائد کیا ہے لیکن دلیل ندارد۔ حالانکہ ذاکر نائیک کی متعدد ویڈیوز انٹرنیٹ پر موجود ہیں جن میں وہ اتحاد اسلام کی دعوت دیتے ہیں اور مسلکی اختلافات سے گریز کرتے ہیں۔ تاہم جہاں بات قرآن و حدیث سے متصادم ہوتی ہے وہ حق بات کہنے سے کبھی نہیں چوکتے۔ ان کی اسی صفت سے اہل بدعت نالاں ہیں اور موقع پرستوں کے ہاتھ آخر ایک موقع لگ ہی گیا ہے چنانچہ وہ کھل کر ڈاکٹر ذاکر کی مخالفت میں آگئے ہیں۔ کیا سنگھی، کیا کارپوریٹ میڈیا اور کیا ملت فروش یہ تمام ایک داعی دین کے مقابلے میں متحد و صف آرا ہو گئے ہیں۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک کی آڑ میں سنگھی استعماری میڈیا  اسلام کو بدنام کرنے کا کھیل کھیل رہا ہے۔ یوپی میں انتخابات سرپر ہیں۔ مسلم ووٹ کی تقسیم اور فسادات کروانا  فرقہ پرست پارٹیوں کا آزمودہ انتخابی حربہ ہے جسے وہ ان حالات میں خوب خوب کیش کریں گی۔ کنورژن کے خلاف تو برسراقتدار پارٹی  کا موقف جگ ظاہر ہے اور وہ  اور پورا سنگھ پریوار تبدیلی مذہب کے خلاف قانون سازی کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹرذاکر کی دعوتی سرگرمیاں بھی انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔ ڈھاکہ حملوں کے پس منظر میں بنگلہ دیشی میڈیا کی آڑ میں آخر انہیں ایک سنہری موقع مل گیا ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک ، ان کے ادارے آئی آر ایف اور پیس ٹی وی کے خلاف شکنجہ کسا جاسکے۔ حالانکہ بنگلہ دیشی اخبار ڈیلی اسٹار نے اپنی پہلی رپورٹوں کی تردید کردی ہے جس میں حملہ آوروں کے ڈاکٹر ذاکر نائیک سے متاثر ہونے کی بات کہی گئی تھی۔ لیکن جھوٹ اور بہتان پر پرورش پانے والا ہندوستانی میڈیا اپنا طوفان کہاں روکنے والا ہے۔ یہ دلیل بھی کہ حملہ آور ڈاکٹر ذاکر نائیک کا فین تھا کتنی بودی ہے۔ کیا بابری مسجد کو شہید کرنے والے لال کرشن ایڈوانی کے فین نہیں تھے؟ کیا مہاتما گاندھی کو قتل کرنے والا آر ایس ایس سے متاثر نہیں تھا؟ کیا آئین اسٹائین کے فارمولوں سے انسپائر ہوکر پہلا ایٹم بم نہیں بنایا گیا تھا جس کے ذریعے لاکھوں بے گناہ جاپانیوں کی جان لی گئی؟ تو کیا اس بنیاد پر یہ تمام ادارے اور افراد بھی قابل گردن زدنی نہیں قرار پاتے؟ محض کسی کا فین ہونے کی بنیاد پر میڈیا ٹرائل اور پوری حکومتی مشنری کا حرکت میں آجانا ایسا خطرناک رجحان ہے جس کی زد سے کوئی نہیں بچ سکتا۔
 شکیل شمسی اگر سطحیت سے اٹھ کر اس زاویے سے بھی سوچتے تو شاید ان کا تعصب انہیں ڈاکٹر ذاکر نائیک پر ہرزہ سرائی کرنے سے باز رکھتا۔ لیکن افسوس عصبیت اور جانب داری اچھے اچھوں کی عقل خبط کردیتی ہے۔
شمسی صاحب کے بعض مداحوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے انہیں پرخلوص انداز میں درخواست کی تھی انہوں نے جو لکھا ہے وہ مناسب نہیں خصوصاً ان حالات میں جب پورا استعماری میڈیا، سنگھ پریوار اور حکومت ڈاکٹر ذاکر نائیک کے پیچھے پڑ گئے ہیں،  اس اداریے کی ضرورت کیا تھی؟ کیا یہ موقع پرستی نہیں ہے؟
ہم نہیں جانتے شمسی صاحب ، آپ کے اوپر کیا دباؤ رہا  ہو گا یا آپ نے کس مصلحت کے تحت یہ اداریہ رقم کیا ہے؟  یہ "اوپر والوں" کو خوش کرنے کی کوشش تھی  یا آپ محض اس طوفان بے تمیزی میں جذباتی طور پر  بہہ گئے!  لیکن ہاں ۔  یہ بات طے ہے کہ آپ جیت گئے۔ آپ کے اس اداریے سے "اوپر والے" تو خوش ہوئے ہی ہوں گے، اس سے کارپوریٹ میڈیا کی حمایت بھی ہوگئی، سنگھی ایجنڈے کو بھی آگے بڑھانے میں مدد ملی اور ملت اسلامیہ کو مسلکی بنیاد پر تقسیم کرنے کی جو مذموم کوششیں کی جا رہی ہیں انہیں بھی تقویت ملی۔  شمسی صاحب ، یقیناً آپ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگئے۔ آپ نے  یہ اداریے لکھ کر ان تمام اہدافات کو حاصل کرلیا۔ ایسے نازک وقت میں جب ملت  کے سپوتوں پر ہر چہار جانب سے یلغار ہورہی ہو، آپ کے ان مضامین کو  بدبختانہ اور موقع پرستی نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟