میں کون ہوں میں کیا ہوں - اشعار

منگل, اپریل 15, 2003 عرفان وحید 0 Comments

ہے حوصلہ اگر کچھ ممکن ہے سب جہاں میں
ہمت اگر جواں ہو کچھ بھی گراں نہیں ہے

ہے دھوپ مشکلوں کی چاروں طرف ہی چھائی
سورج سروں پہ آیا پر سائباں نہیں ہے

کس شے کی جستجو ہے انسان کو خلا میں
کیا اس زمیں پہ کوئی اب کارواں نہیں ہے

ٹھہری ہوئی ہے کب سے اس زندگی کی کشتی
دریائے آرزو بھی اب تو رواں نہیں ہے

حیرت زدہ سی نظریں گویا یہ کہہ رہی تھیں
اس کو ہی ڈر نہیں ہے جس کو اماں نہیں ہے

میں کون ہوں، میں کیا ہوں، میں کس لیے یہاں ہوں؟
عرفانِ ذات اپنا مجھ پر عیاں نہیں ہے

مالیر کوٹلہ ،جنوری ۱۹۹۶

شاید آپ کو یہ بھی پسند آئیں

0 comments:

تبصرہ کیجیے