تراجم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

میں اردو زباں ہوں - ڈاکٹر خالد مبشر کی تازہ نظم



'میں اردو زباں ہوں' ڈاکٹر خالد مبشر کی تازہ نظم ہے۔ موصوف جامعہ ملیہ اسلامیہ میں  شعبۂ اردو میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہیں۔ زیرغورنظم میں انہوں نے اردو کی زبانی اس کے تابناک ماضی کی خوبصورت مرقع کشی کی ہے۔ نظم اپنے اختتامیے پر ایک پردرد احتجاج میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
شاعری کا  اصل لطف اسے بزبان شاعر سننے میں ہی ہے۔ کیوں نہیں، حاضر ہے خود شاعر کی ریکارڈ کردہ آواز میں یہ پر اثر نظم۔ 
غزل سننے کے لیے پلے بٹن پر کلک کریں۔

تکثیری معاشرہ اور ہمارا مطلوبہ رویہ -آخری قسط

دوسروں کے سب و شتم سے احتراز

مسلمانوں کا دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے تئیں رویہ اسلام کے عمومی انسانیت نواز نظریے سے جلِا پاتا ہے۔ ہم اس سے پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ اسلام اپنے پیروکاروں کو دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے مذہبی جذبات کے احترام کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن کا ایک واضح فرمان مسلمانوں کو دوسروں کے دیوتاؤں اور خداؤں کے سبّ و شتم سے گریز کرنے کا حکم دیتا ہے

تکثیری معاشرہ اور ہمارا مطلوبہ رویہ - قسط ۵

مسلم انفرادیت کی تشکیل :
 ان اقدار سے جو بنیادی اصول تشکیل پاتا ہے اسے ان الفاظ میں سمیٹاجاسکتا ہے: ‘‘اگرچہ نوعِ انسانی کے ساتھ عدل واحسان کے مکمل قیام کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنے خالق ، معبود اور مالک کی رضا کاپابندہوجائے، تاہم ان کی تنفیذ کے لیے اس شرط کے مکمل اور مستحسن طورپر پورا ہونے کا انتظارنہیں کیاجائے گا۔’’ قرآن و سنت نے مذکورہ بالا اقدار کی تنفیذ کو اسلامی ، سیاسی اورمعاشرتی نظام کے قیام کے ساتھ مشروط نہیں کیا ہے۔ یہ اقدار انفرادی اور اجتماعی زندگی کے اسلامی تصور میں مستحکم ہیں۔ مخلوط معاشرے میں ان اقدار پر عمل آوری اور تنفیذ کی جتنی بھی ممکن صورت ہو، مسلمانوں پر اس کے حصول کی جدوجہد واجب ہے۔

تکثیری معاشرہ اور ہمارا مطلوبہ رویہ - قسط ۴

امت مسلمہ کا دعوتی تناظر:  ایک ایسی امت کے لیےکردار کی یہی وہ مطلوبہ تبدیلی ہے جس کا نصب العین، تمام چیزوں سے یکسو کرکے، اللہ نے صرف یہ متعین کیا ہےکہ وہ لوگوں پر اللہ کی شہادت قائم کریں، صراطِ مستقیم کی دعوت دیں، یعنی اپنے خودساختہ خداؤں اور دیوتاؤں کے استبداد اور انھیں جیسے انسانوں کے جبر سے نجات دلائیں جو دولت و قوت کے زور پر انسانوں پر ظلم کرتے ہیں، اور ایک نظام عدل و قسط قائم کریں۔ اس منصب کی خاطر ہمیں پھر سے قرآن و سنت سے رہنمائی حاصل کرنا ہوگی۔ابدی ہدایت کے سرچشمہ سے روشنی کا یہ اکتساب دور آئند اور دعوت کے حرکی تناظر میں ہونا چاہیے۔ اور اس امر کے احساس کے ساتھ کہ ہم نوع انسانی کا حصہ ہیں اور اسکی اخروی فلاح کے لیے درد مندانہ احساس رکھتے ہیں۔

تکثیری معاشرہ اور ہمارا مطلوبہ رویہ -۳

مصنف: ڈاکٹر فضل الرحمٰن فریدی
ترجمانی: عرفان وحید
جیسا کہ شروع میں عرض کیا گیا ، تکثیری معاشرے ہمارے اپنے عمل دخل سے نہیں یہ بلکہ جدید زمانے کی چند ناگزیر صورتِ حالات کی دین ہیں۔ ساری دنیا کے مسلم معاشرے تبدیلی کے موافق نقطہ نظر  کے باوجود تنہا اپنے معاشروں کی بازتشکیل نہیں کرسکتے۔ دنیا کے اکثر حصوں میں وہ اقلیت میں ہیں اور اسی حیثیت میں رہتے ہوئے انہیں متنوع مذاہب اور مختلف تہذیبوں سے وابستہ افراد کے ساتھ تعامل کرنا ہے تاکہ اپنے ہم وطن و ہم سایہ عوام کی زندگیاں بہتر بنانے کی جدو جہد میں شریک ہوسکیں۔

تکثیری معاشرہ اور ہمارامطلوبہ رویہ- ۲


مصنف: ڈاکٹر فضل الرّحمٰن فریدی
ترجمانی: عرفان وحید


اس امت کا یہ وصف بھی اتنا ہی اہم ہے کہ اس کا نصب العین ہے اللہ کا پیغا م انسا نیت تک پہنچا نا تا کہ وہ حق کو پہچان کر اسلا م کی حقا نیت اور اس کی آفا قی اقدار کو جا ن لیں ۔ قرآن امت کے اس نصب العین  کی تعریف درج ذیل آیت میں معین کرتا ہے:
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا ۗ
اور اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک "امت وسط" بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو۔ البقرة: ۱۴۳
ایک پُر زور بیا ن میں قرآن حکیم اس امت کی بعثت اور تخلیق کا مقصد اسی منصب کو قرا ر دیتا ہے:
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ۗ
اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو- آل عمران:۱۱۰
سوال ہے کہ ایسی امت اپنے نصب العین سے عہدہ بر آ ہو تے ہو ئے ایک تکثیری معا شرے کے تقا ضو ں کو کس طر ح پور ا کرے؟

تکثیری معاشرہ اور ہمارامطلوبہ رویہ - ۱

نام کتاب: لِونگ ایز اے مسلم ان اے پلورل سوسائٹی
نام مصنف: ڈاکٹر فضل الرّحمٰن فریدی
پبلشر: اسلا مک فا ؤ نڈیشن ٹرسٹ ، چنئی ۱۹۹۸
ارو ترجمہ: تکثیری معاشرہ اور ہمارامطلوبہ رویہ
مترجم: عرفان وحید

زیرِ نظر طویل مقالہ ڈاکٹر فضل الرحمٰن فریدی مرحوم کی انگریزی تحریر"لِونگ ایز اے مسلم ان اے پلورل سوسائٹی" کا ارو ترجمہ ہے جو راقم الحروف نے مولانا نذر محمد مدعو، سابق امیرِ حلقہ مہاراشٹر کی خواہش و ایما پر کیا تھا۔ ماہنامہ رفیقِ منزل میں یہ طویل مقالہ ۵ قسطوں میں شائع کیا جائے گا۔ اس کی پہلی قسط رفیق منزل کے شمارہ مئی ۲۰۱۳ میں شائع ہوئی۔ افادۂ قاری کے لیے اسے بلاگ پر پیش کیا جا رہا ہے۔

توہین اسلام کا اصل مرتکب کون؟

پوری مسلم دنیا خاص طور پر مشرق وسطی ان دنوں مشتعل ہے۔ غصے کی اس لہر کے نتیجے میں نہ صرف امریکی اور اسرائیلی پرچم جلانے کے واقعات رونما ہوئے بلکہ یہ بہت سے معصوم لوگوں کی ہلاکت، بشمول لیبیا میں امریکہ کے سفیر کرسٹوفر سٹیونس کے قتل، کا سبب بھی بنی۔ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مسلمان اس قدر غصہ اور نفرت کیوں محسوس کرتے ہیں؟ کیا امریکہ یا اسرائیل نے مکہ مکرمہ پر ایٹم بم گرادیا؟ کیا پوپ بینیڈکٹ شانزدهم نےاپنے پیشرو پوپ اربن دوئم کی طرح اسلام کے خلاف صلیبی جنگ کا اعلان کر دیا؟ جواب ہے: نہیں۔ تو، آخر اس قدر غصہ کیوں؟ اور تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ غصہ ایک فلم، بلکہ خصوصا ایک ویڈیو بنام “مسلمانوں کی بے گناہی، کی وجہ سے ہے۔ یہ فلم ایک 55 سالہ بدنام اور شورہ پشت شخص نکولا نے نجی طور پر بنائی ہے جو 2010 ء میں ایک بینک فراڈ سمیت بہت سے دیگر جرائم کا ارتکاب کر چکا ہے۔

غزل کے چنداشعار

کیا غم ہے جو ہوا ہے یہ ساحل مرا رقیب
ہنس کر گلے لگائے گا طوفان ایک دن

منزل کی ہے تلاش مگر رہ گزر کہاں - غزل

منزل کی ہے تلاش مگر رہ گزر کہاں
ہو جس پہ چل کے سب کا بھلا وہ ڈگر کہاں