شاعری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

فصیلِ حرف میں معنی کا در بنایا جائے


پسِ سکوت، سخن کو خبر بنایا جائے
فصیلِ حرف میں معنی کا در بنایا جائے

کس قدر بے اماں ہے شہرِمراد


اف یہ وحشت، یہ آگہی کا فساد
کس قدر بے اماں ہے شہرِمراد

سفر درونِ ذات بے قیام کیوں نہیں رہا



مسافتوں کا پھر وہ اہتمام کیوں نہیں رہا
سفر درونِ ذات بے قیام کیوں نہیں رہا

کہیں سحر تو نہیں ہے غبار میں اب بھی


چھپا ہے نظم کوئی انتشار میں اب بھی
کہیں سحر تو نہیں ہے غبار میں اب بھی

ہرا بھرا تھا شجر بے لباس کیسا ہے


چمن میں آج یہ منظر اداس کیسا ہے
ہرا بھرا تھا شجر بے لباس کیسا ہے

یہ وقت معرضِ کرب و بلا میں ٹھہرا ہے


ہنوز عرصہ ٔ جور و جفا میں ٹھہرا ہے
یہ وقت معرضِ کرب و بلا میں ٹھہرا ہے

ستم گر کو پشیمانی بہت ہے



سرِ آئینہ حیرانی بہت ہے
ستم گر کو پشیمانی بہت ہے

قدم رواں ہیں رہِ پُرخطر کے ہوتے ہوئے


ہزار وحشتِ تیر و تَبَر کے ہوتے ہوئے
قدم رواں ہیں رہِ پُرخطر کے ہوتے ہوئے

جنوں کی جلوہ سامانی بہت ہے


خرد کی گرچہ ارزانی بہت ہے
جنوں کی جلوہ سامانی بہت ہے

نعت رسولِ خیرالانام ﷺ




وراے سدرہ وہ نقشِ دوام آپؐ کا ہے 
کہ انتہا سے بھی آگے مقام آپؐ کا ہے

جمال، حرف، نظر، روشنی، ادا، خوشبو
صد استعارہ کمال و تمام آپؐ کا ہے

حضورِ ایزدی چرچا مدام ہے ان کا 
زباں پہ جن کی شب و روز نام آپؐ کا ہے

وہی جہاں میں ہے بس احترام کے لائق
غلام جو بھی اے خیر الانام آپؐ کا ہے  

تمام دنیا کو ہے آپؐ کا پیام نوید
تمام خلق پہ رحمت نظام آپؐ کا ہے

چمن چمن میں درودوں کے زمزمے ہیں مدام 
کلی کلی کی چٹک میں  سلام آپؐ کا ہے


ہزار راہِ محبت میں آئے دشواری
وفاشعار مگر مست گام آپؐ کا ہے

زہے کہ نوکِ قلم آج نعتِ پاک ہوئی
خوشا کہ وردِ زباں آج نام آپؐ کا ہے

وحیدؔ بھی ہے طلب گارِ کوثر و تسنیم
اگرچہ وہ بہت ادنیٰ غلام آپؐ کا ہے


نعت رسول پاکﷺ




حیات آفریں سب انقلاب اُنؐ کے ہیں
 ازل سے جو بھی ہیں روشن نصاب اُنؐ کے ہیں

غلام سارے ہی عزت مآب اُنؐ کے ہیں
تمام ذرے  بنے آفتاب اُنؐ کے ہیں

 اگرچہ جاں سے گزرنا ہے دشتِ حق کا سفر
 وفا شعار مگر فوزیاب اُنؐ کے ہیں

فضا ہے ساری معطر بفیضِ ذکرِ نبیؐ
 مشامِ جاں میں مہکتے گلاب اُنؐ کے ہیں

 جو اُنؐ کے جادے سے بھٹکی وہ زیست زیست نہیں
 رہِ حیات کے سارے نصاب اُنؐ کے ہیں

 اُنھیںؐ کی نعتِ مسلسل جسے کہیں قرآں
 سخن خدا کا، ثناؤں کے باب اُنؐ کے ہیں

 ہمیں توازنِ فکر و نظر ملا اُنؐ سے
 درونِ ذات کُھلے ہیں جو باب اُنؐ کے ہیں

ہماری نیند سدا اُنؐ کی تشنۂ دیدار
 ہماری جاگتی آنکھوں میں خواب اُنؐ کے ہیں

 جہاں میں لوگ وہی خوش نصیب ہیں عرفانؔ
 ’’درِ نیاز سے جو باریاب اُنؐ کے ہیں‘‘


قاتل بھی وہی اور نگہباں بھی وہی ہے


ہر چند کہ انصاف کا خواہاں بھی وہی ہے
قاتل بھی وہی اور نگہباں بھی وہی ہے

آج کچھ درد میں کمی سی ہے



دل کو پھر ایک بے کلی سی ہے
ہم کو پھر آپ کی کمی سی ہے

اس سے تسلیم بس یونہی سی ہے
برف احساس کی جمی سی ہے

چلیے، احباب کو تو جان گئے!
یہ مصیبت تو عارضی سی ہے

کچھ تو چارہ گری کرے کوئی
آج کچھ درد میں کمی سی ہے

کون محو سخن ہے دیکھو تو
ایک عالم میں خامشی سی ہے

آج چپکے سے کس کی یاد آئی
دل کے آنگن میں چاندنی سی ہے

مژدہ شاید ہو اس کی آمد کا
یہ سحر کچھ نئی نئی سی ہے

کس نے ترک وفا کیا پہلے؟
یہ شکایت بھی باہمی سی ہے

حسرتو، اب تو ہو چلو خاموش
نبض بیمار کی تھمی سی ہے

عمر گزری جسے بیاں کرتے
وہ کتھا اب بھی ان کہی سی ہے

غزل۔ اے وقت ترے جبر کی توقیر کہاں تک



ہو دیدٔہ خوش خواب کی تعبیر کہاں تک
اے وقت ترے جبر کی توقیر کہاں تک

میں اردو زباں ہوں - ڈاکٹر خالد مبشر کی تازہ نظم



'میں اردو زباں ہوں' ڈاکٹر خالد مبشر کی تازہ نظم ہے۔ موصوف جامعہ ملیہ اسلامیہ میں  شعبۂ اردو میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہیں۔ زیرغورنظم میں انہوں نے اردو کی زبانی اس کے تابناک ماضی کی خوبصورت مرقع کشی کی ہے۔ نظم اپنے اختتامیے پر ایک پردرد احتجاج میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
شاعری کا  اصل لطف اسے بزبان شاعر سننے میں ہی ہے۔ کیوں نہیں، حاضر ہے خود شاعر کی ریکارڈ کردہ آواز میں یہ پر اثر نظم۔ 
غزل سننے کے لیے پلے بٹن پر کلک کریں۔

غزل۔ کنارِ فرات امتحاں اور بھی ہیں


کنارِ فرات امتحاں اور بھی ہیں
لبِ دریا تشنہ لباں اور بھی ہیں


ابھی عشق کی سختیاں اور بھی ہیں
ابھی رہ میں دشتِ زیاں اور بھی ہیں

یہ موقوف کچھ دوستوں پر نہیں ہے
یہاں دشمنِ نقدِ جاں اور بھی ہیں

کڑی دھوپ تھی راحتِ جاں، جو سمجھا
مری راہ میں سائباں اور بھی ہیں

نہیں ایک میرا ہی غم معتبر کچھ
-دکھی دل ہزاروں یہاں اور بھی ہیں۔

ہمیں ہے امیدِ کرم ان سے ورنہ
ستم کچھ ورائے گماں اور بھی ہیں

ابھی ہیں اندھیرے جو غالب تو کیا غم
ابھی کچھ دیے ضو فشاں اور بھی ہیں

اگر ایک دیوار ہے بے مروت
شجر اور بھی، سائباں اور بھی ہیں

عرفان وحید۔۳۰/اکتوبر، ۲۰۱۳

نظم۔ کاروانِ سخت جاں



مصر میں فوجی جارحیت سے برسرِ پیکار اخوانی جیالوں کے نام ایک نظم

غزل۔ ہر چند یہاں خیر کا خواہاں بھی وہی ہے

ہر چند یہاں خیر کا خواہاں بھی وہی ہے
پر آگ لگانے میں نمایاں بھی وہی ہے

غزل - یوں تو شمار اس کا مرے بھائیوں میں تھا


یوں تو شمار اس کا مرے بھائیوں میں تھا
میں تھا لہو لہو وہ تماشائیوں میں تھا

غزل - کوئی یہ جاؤ آج کے انسان سے کہو

کوئی یہ جاؤ آج کے انسان سے کہو

ایماں تمہارا کیا ہوا ایمان سے کہو