تکثیری معاشرہ اور ہمارا مطلوبہ رویہ - قسط ۵

سوموار, ستمبر 23, 2013 عرفان وحید 0 Comments

مسلم انفرادیت کی تشکیل :
 ان اقدار سے جو بنیادی اصول تشکیل پاتا ہے اسے ان الفاظ میں سمیٹاجاسکتا ہے: ‘‘اگرچہ نوعِ انسانی کے ساتھ عدل واحسان کے مکمل قیام کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنے خالق ، معبود اور مالک کی رضا کاپابندہوجائے، تاہم ان کی تنفیذ کے لیے اس شرط کے مکمل اور مستحسن طورپر پورا ہونے کا انتظارنہیں کیاجائے گا۔’’ قرآن و سنت نے مذکورہ بالا اقدار کی تنفیذ کو اسلامی ، سیاسی اورمعاشرتی نظام کے قیام کے ساتھ مشروط نہیں کیا ہے۔ یہ اقدار انفرادی اور اجتماعی زندگی کے اسلامی تصور میں مستحکم ہیں۔ مخلوط معاشرے میں ان اقدار پر عمل آوری اور تنفیذ کی جتنی بھی ممکن صورت ہو، مسلمانوں پر اس کے حصول کی جدوجہد واجب ہے۔
غربت اور بھکمری کے حل کے لیے ، جبرو ظلم کے سدباب کے لیے،کمزوروں اور محروموں کی اعانت کے لیے، یتیموں اور بیواؤں کی دستگیری کے لیے آئیڈیلاسلامی نظام کے نفاذ کا انتظار نہیں کیاجاسکتا۔۔کیونکہ اسلامی نظریہ میں یہ ’ کام دوست بنانے اور لوگوں کو مرعوب کرنے‘کے حربے کے طورپر کبھی نہیں دیکھا گیا۔ غریبوں اور مظلوموں کو موجودہ سماجی نظام کی خردبرد اور چیرہ دستیوں کے درمیان، اپنے آئیڈیل کے حصول کیجدوجہد میں یوں ہی چھوڑدینا گناہ ِعظیم ہے۔
مزید برآں، ایمان کے ساتھ ساتھ، یہ اقدار و اصول مسلمانوں کی انفرادیت کے لاینفک اجزاء کی حیثیت رکھتے ہیں انھیں سے تو مسلمان کے کردار کی تشکیل ہوتی ہے۔ ان سے پہلو تہی کے نتیجےمیں  ایک ناقص اسلامی کردار ہی کی توقع کی جاسکتی ہے۔
ان اقدار کے تئیں، انفرادی حیثیت میں، ہم سب کو اللہ کےسامنے حساب دینا ہوگا۔ یہی حال ایمانیات کے دیگر شعبوں پر عمل آوری کا بھی ہے۔ بیرونی معاشرتی وسیاسی حالات خواہ کچھ ہوں، ان اقدار پر عمل آوری ناگزیر ہے اور ہر مسلمان پر اپنی اپنی استعداد کے مطابق ان کی خاطر جدوجہد ضروری ہے کیونکہ اللہ کسی فردپر اسکی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ ’’اللہ کسی متنفس پر اُس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمہداری کا بوجھ نہیں ڈالتا۔ ‘‘ (قرآن: البقرہ : ۲۸۶)
قرآن کی یہ آیت نہ صرف اس حقیقت کی طرف واضح اشارہ ہے کہ اسلام اپنی مجموعی حیثیت میں فرد پر ذمہ داری عائد نہیں کرتا بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ انفرادی ذمہ داریوں کی حدود کیا ہیں۔ قرآنی بیان کہ’’ 'جہاں تک تمہارےبس میں ہو اللہ سے ڈرتے رہو۔( النحل: ۶۴)‘‘ اسلامی اقدار اور اصولوں کی آفاقیت اور فردکی ذمہ داریوں کے سلسلے میں ایک روشن مینارہ ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ اسلامی تعلیمات واقدار کا بڑا حصہ صرف اسلامی نظام حکومت میں ہی ممکنہ طورپر قابل عمل ہے لیکن ان کا تعلق عمومی طورپر اسلامی تعلیمات کے اجتماعی پہلو سے ہے۔ ان امکانات پر عمل آوری اسلامی نظام معاشرت و سیاست کے قیام تک مؤخر کی جاسکتی ہے جس کی خاطر ایک مسلمان کو پیہم جدوجہد کرتے رہنا ہے۔ لیکن اسلام بنیادی اسلامی اقدار کے جو دراصل انسانی اقدار ہیں، کے مؤخر کرنے کی کبھی وکالت نہیں کرتا۔ اسی حقیقت کا اشارہ رسول اکرم ؐ کی ایک حدیث میں اسلامی نظام کے قیام تک یوں ملتا ہے: خیارہم فی الجاہلیۃ خیارہم فی الاسلام یعنی تم میں دور ِجاہلیت کے بہترین لوگ دورِاسلام کے بھی بہترین لوگ ہیں۔
ایسا اس لیے ہے کہ برائی سے نفرت اور بھلائی کی طرف رغبت انسانی فطرت میں ودیعت کردی گئی ہے۔ بیرونی فضا، عناد و موافقت انسانی رویوں کی مطلوبیتکو نہیں بدل سکتا گوکہ ان سے وہ متاثر ضرور ہوسکتے ہیں۔
جہدِ مشترک :
اسلامی تعلیمات کے سیاسی پہلو سے انکار ممکن نہیں ہے۔ اسلام انسانی زندگی کو ایک وحدت مانتاہے جس میں سیاست کو روحانیت سے الگ نہیں رکھا گیا۔ لیکن یہاں یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ سیاسی پہلو اس کے اخلاقی اور روحانی اقدار کی نفی وتخفیف نہیں کرتا اور نہ ہی اس بات کی وکالت کرتاہے کہ اس کو انسانی اقدار پر عمل آوری اسکے سیاسی منتہائے مقصود کے حصول کے ساتھ مشروط کیا جائے۔
اس کے برعکس اسلام اپنے پیروؤں کو ان اقدار پر عمل آوری تمام حالات میں اور تمام لوگوں کے ساتھ روا رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ اس سے بھی اہم یہ ہےکہ اسلام اسلامی اقدار کی عمل آوری پر اس لیے یقین رکھتاہے کیونکہ اللہ ایک عدل پروراور انسانیت نواز سیاسی نظام کا قیام چاہتا ہے۔
یہی وہ مطمح نظر ہے جس کے پیش نظر قرآن ایمان والوں کو حکم دیتاہے کہ وہ نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں تعاون کریں اور بْرائی اور ظلم کی بیخ کنی کریں۔ قرآن کہتاہے: جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جوگناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو ۔ (المائدہ: ۲)
تکثیری معاشرے میں جو بھی انسانی مساوات ، عدل کے لیے جدوجہدکرتا ہے اور انسانوں کے استحصال اور حقوق انسانی کی پامالی کے خلاف آواز بلند کرتاہے، وہ مسلمانوں کے غیرمشروط، بلاجھجک تعاون کا حق دار ہے۔ ہمارے معاشرے میں عدم مساوات اور ظلم اس قدر مستحکم ہوچکے ہیں کہ ان کا سدباب تبھی ممکن ہے جب تمام لوگ اس کے خاتمےکے لیے بلاتفریق مذہب و ملت اس کاوش میں حصہ لیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ اسلام چاہتا ہے کہ اس طرح کی کاوش میں مسلمان بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور عدل و مساوات کے حصول، بھکمری، بیماری، ظلم، بدعنوانیاور برائیوں کے سدباب کی جدوجہد میں سب سے آگے ہوں۔ ان کاوشوں کو صرف اپنی قوم کی ترقیاور تنگ نظر و متعصب حلقوں میں محدود کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ کیونکہ جیسا کہ اوپرمذکور ہواہے یہ مقاصد تمام انسانوں کے لیے آفاقیت کے حامل ہیں۔
جو لوگ ناانصافی کے خلاف احتجاج نہیں کرتے صرف اس بنا پرکہ اس سے ان کی قوم متاثر نہیں ہورہی ہے اور جب راست ان پر کوئی آنچ آتی ہے تو واویلامچانے لگتے ہیں دراصل اللہ کے فرمان کی خلاف ورزی کرتے ہیں جو تمام انسانیت کے ساتھیکساں ہمدردی کا حکم دیتا ہے۔ مظلوم کا مذہب اس کی طرف مدد کا ہاتھ بڑھانے کے لیے مانعنہیں ہونا چاہیے۔
رسول اکرمؐ کی حیات طیبہ میں مسلمانوں کے لیے نمونہ ہے۔حلف الفضول کا تاریخی معاہدہ جس میں اللہ کے رسولﷺ نے نبوت سے قبل ایک تکثیری معاشرے  ہی کے اندر رہ کر  بڑھ چڑھ کر حصہ لیاتھا۔یہ ایک ایسا معاہدہ تھا جسمیں مشرکین، ملحدین اور موحدین تمام نے ایک جٹ ہو کر برائی اور ناانصافی کے خلاف مشترکہجدوجہد کرنے کا عہد باندھاتھا۔ اللہ کے رسولﷺ عہد رسالت میں بھی اس معاہدے کی بڑی قدرکرتے تھے اور ایک روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ اس طرح کا معاہدہ پھر کوئی ہو تواس عنوان کی  دعوت میں  آپ ؐ اب بھی شریک ہونا چاہیں گے۔
اس قسم کی کاوشوں میں تعاون مسلمانوں کے لیے اخلاقی فریضہہے۔ اپنے تعاون کو اس شرط پر مشروط کرناکہ اس طرح کی کوشش جامع اور ہمہ جہت ہو اورمعاشرے کی بنیادی بْرائیوں کے انسداد  کی کوششکرے، صحیح نہیں ہے۔ نبی اکرمﷺ کی حیات طیبہ سے ہمیں ہدایت ملتی ہے کہ بہت معمولی اورچھوٹے درجے کی ایسی کاوشیں بھی مسلمانوں کے بھرپور تعاون اور فعال اشتراک کی حق دارہیں۔ ابوجہل کاایک بدّو کو اس کے اونٹ کی قیمت دینے سے انکار کرنے کاایک چھوٹا سا واقعہ رسول عربیﷺ کو اس کی حمایت و نصرت سے نہیں روک سکا۔ وہ حدیث جو مسلمانوں کو چھوٹی برائیوںکو غیراہم سمجھ کر چشم پوشی سے روکتی ہے دراصل ہماری روزمرہ کی زندگی کے لیے بڑی حکمتوں کی حامل ہے۔ بیہقی میں ابن مسعودؓ کے حوالے سے حضرت عائشہ سے روایت  ہے کہ حضور ؐ فرمایا کرتے تھے ’’اے عائشہؓ ، اُنگناہوں سے بچی رہنا جن کو چھوٹا سمجھا جاتا ہے کیونکہ کیونکہ یہ اکھٹے ہوکر انسان کوڈبو دیتے ہیں۔""‘‘
چھوٹی برائیاں یا ناانصافی کے معمولی واقعات کا مجموعی اثرمعاشرے پر پڑتا ہے۔ غیرمحسوس انداز میں بتدریج وہ برائی کے پہاڑ کی شکل لے لیتے ہیں۔اسی طرح نیکی اور احسان کے معمولی واقعات کا مجموعی اثر بھی معاشرے پر پڑتا ہے جو ایک رحم دل اور انصاف پرور معاشرے کی تشکیل میں ممد ہوتے ہیں۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جو بے انصاف اور بے رحم محض ان خصائل کے مظہر ہی میں نہیں ہیں۔ ہمارا رویہ بے رحم ہوتاہے جب ایک سڑک حادثہ میں کوئی زخمی خون میں لت پت تڑپ رہا ہوتا ہے۔ جب ایک عام پولیس والا ایک غریب پٹری والے دکان دار سے پیسے اینٹھتا ہے۔ جب ننگ دھڑنگ بچے کوڑے کے ڈھیر سے کھانے کی چیزتلاش کرتے نظر آتے ہیں۔ جب فسادی بلوائی  برہنہ خواتین کو سڑک پر پریڈ کرواتے ہیں۔  جب غریب ہمسائے عالی شان محلوں کے پیچھے فاقوں سے مررہے ہوتے ہیں۔ ہم ایک نفس پرست معاشرہ ہیں کیونکہ ہمارے پاس بیماروں اور ضرورت مندوں کے لیے وقت ہی نہیں ہے۔ ہم رفتہ رفتہ ایک ایسے متعفن سماج  میں تبدیل ہوتے جارہے ہیں جہاں مادی حصولیابیوں اور نام و نمود کی ہوس میں ہر چھوٹا بڑا  گرفتار ہے۔ ہماری زندگی سے خلوص، محبت اور ہمدردی ختم ہوتی جارہی ہے۔ ہم اپنی بیویوں کو کم جہیز لانے کی بنا پر قتل کردیتے ہیں۔ ہمارےمعاشرے میں بچی کا وجود ناقابل ِبرداشت ہے۔
ایسے معاشرے میں حالات کی تبدیلی کی طرف معمولی کاوش بھیہمارے اقدام،توجہ اور تعاون کے لائق ہے۔ مسلمانوں کو ان کاوشوں میں خواہ وہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہوں اور کتنی ہی غیراہم کیوں نہ محسوس ہوں، ضرور حصہ لینا چاہئے۔ اللہ کے رسولﷺ محروم، غریب عورتوں کے معمولی شکوے پر دل برداشتہ ہوجایا کرتے تھے۔ حضورﷺنے فرمایا: دولوگوں کے درمیان صلح کروا دینا صدقہ ہے۔ اسی طرح کسی کو اونٹ پر سوارہونے میں مدد کردینا یا اس کا سامان اٹھانے میں ہاتھ بٹا دینا، یا بھلی بات کہنا یہ سب صدقہ ہیں۔ اور ہر وہ قدم جو تم نماز کی طرف بڑھاتے ہو صدقہ ہے اور لوگوں کے راستےسے ایذا پہنچانے والی چیزوں کو ہٹا دینا(مثلا پتھر وغیرہ) بھی صدقہ ہے۔ (مسلم)
کتنے تعجب کی بات ہے کہ پرہیزگاری کے ایک موہوم تصور کےتحت مسلمانوں کاایک طبقہ انسانی تکالیف کے سدباب کی چھوٹی چھوٹی کوششوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ  لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اگر اللہ پر ایمان نہ لانے کی بنیادی بْرائی کو ختم کردیاجائے تو  تمام انسانی مصائب خود بخود دور ہوجائیں گے۔ شریعت کی یہ تعبیر یکسر غیر مطلوب  اور تنگ نظری پرمبنی ہے۔ یہ سوچ انفرادی و اجتماعی معاشرتی تبدیلی کے محرکات کے عدم فہم کی بھی چغلیکھاتی ہے۔
خاص طورپر یہ طرزفکر وقت کے اہم مسئلہ کو نظرانداز کرتاہے۔ مسلمانوں کوغیراسلامی اقدار پر مبنی سیاسی نظام میں کافی عرصے تک رہنا ہے۔ اگرہم اِسے کسی سیاسی نظام کی مکمل اسلامیت کے حصول کے لیے عبوری دور تصور کر بھی لیں تب بھی مسئلہ برقراررہتا ہے۔  کیا اسلامی شریعت مسلمانوں کو  یہ حکم دیتی ہے کہ وہ محض معاشرےکی تبدیلی کا انتظار کرتے رہیں اور انسانی مصائب کو خاموشی سے دیکھتے رہیں؟ بالکل نہیں۔
فلسفۂ حکومت تعاون کے لیے مانع نہیں ہے :
اس سلسلے میں سرکاری اور نجی کاوشوں میں امتیاز کرنا غیرضروری ہے۔ حکومت کے ذریعے غریبی اور بھکمری کے انسداد، استحصال کے خاتمے، ظلم کی بیخ کنی،بیماری کےسدباب، غذائی قلت  اورناخواندگی پرقابو پانا وہ آئیڈیل ہیں جو اسلام کے بھی  منتہائےمقصودہیں۔حکومت کی نوعیت اور اس کا فلسفہ خواہ کچھ ہو، مسلمانوں کا ان مساعی میں پوری طرح لگن کے ساتھ تعاون کرنا اخلاقی  فریضہ ہے۔ انسانی مصائب کامسئلہ اس قدر سنگین ہے کہ نظری اختلافات کے حل تک اسے مؤخر نہیں کیاجاسکتا۔غریبی اور استحصال کو سرخ انقلاب کا پیش خیمہ قرار دینے کے مارکسی نقطہ نظر  کےبرعکس، اسلام اس بات پر یقین رکھتاہے کہ اللہکی راہ میں جدوجہد کرنا اور محروموں، کمزوروں اور مظلوموں کی حمایت و نصرت ایک دوسرےکے ساتھ باہم  مربوط ہیں۔ گزشتہ صفحات میں پیش کردہ احادیث و روایات اس بات پر دال ہیں۔ متعدد علمائے اسلام اس کی پرزور وکالت کرتےہیں۔ ابن تیمیہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ظلم اور جبر کے خاتمے کااگر غالب احتمال ہوتومسلمانوں کو جابر حکومت کا ساتھ دینے میں بھی گریز نہیں کرنا چاہئے۔ جمہوری حکومت توپھر بھی یقینی طورپر مسلمانوں کو خدمتِ خلق کے انسانی فریضے کے بہت سے مواقع فراہمکرتی ہے۔
تاہم یہاں اس امر کاتذکرہ ضروری ہے کہ یہ تعاون و اشتراک مذکورہ بالا مقاصد کے راست مضمرات تک محدود رکھنا ضروری نہیں ہے۔ مثال کے طورپر ہندوستانیسیاق میں حکومت کےصحت مند اور خوش حال معاشرے کی تشکیل کی مساعی میں تعاون کرنا ہیچاہئے۔  اس کی متعدد وجوہ ہیں، اولاً معاشی استحکام کی بہتر شرح اور عوامی رفاہی خدمات مثلاً بہتر سڑکیں، ذرائع ترسیل و ابلاغاور بہتر اسپتال وغیرہ اپنی افادیت میں بلاامتیاز سب کی شرکت یقینی بناتے ہیں۔ مسلمان بھی کم و بیش ان رفاہی اداروں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
دوئم، غریبی، بھکمری اور بیماری کی انسداد بہتر  خام قومی پیداوار(جی این پی) اور بہتر رفاہی  اور انفرااسٹرکچر ل سہولیات کا تفاعل(function)ہے۔
سوئم، معاشی بہتری اور جدید تعلیم کی فراہمی کی خاطر نجیاور انفرادی مساعی ان مسائل کو حل کرنے میں پوری طرح اہل نہیں ہیں۔
چہارم، مسلمانوں کی آبادی حجم کے لحاظ سے اتنی بڑی ہے کہان کی ترقی میںرکاوٹ مجموعی قومی ترقی کی راہ میں بھی رکاوٹ ہے۔
اور آخری لیکن اہم بات یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمان غالباً  ہندوستان کے تمام غریب اور محروم طبقات سے بھی زیادہ پسماندہ ہے۔ اور اس صورتِ حال کو حکومت کی فعال مساعی کے بغیر بدلا نہیں جاسکتا۔
حالیہ برسوں میں حکومت کی جانب سے اقلیتوں کی فلاح کے لیےمتعدد منصوبے تیار کیے گئے ہیں۔ لیکن بیوروکریسی کی بے حسی و بے اعتنائی اور خود  ملت اسلامیہ کی اپنی غفلت  اور سستی کی بدولت یہ منصوبے خاطر خواہ کامیابیسے ہمکنار نہیں ہوتے ہیں۔ یہ عوامل ہندوستانی مسلمانوں سےحکومتی اقدامات کے سلسلے میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کے سلسلے میں متقاضی ہیں۔
اقدارپر مبنی تعاون :
اصولِ اسلامی، البتہ اس اشتراک کے سلسلے میں انفرادی اوراجتماعی سطح پر چند واضح حدود مقرر کرتاہے۔ یہ شرائط  روزمرہ کی اخلاقیات کے اسلامی نظریہ سے اخذ ہوتےہیں۔ ریاستوں/حکومتوں کے سیکولر نقطۂ نظر کی بدولت، بیشتر حکومتی منصوبے یا تو بلاواسطہ عدم مساوات اور جبر کے مسئلہ کے حل کے طورپر یا پھر بالواسطہ مجموعی ترقی و معاشی ترقی کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں جو اخلاقیات کے سلسلے میں غیرجانبدارانہ ہیں۔ ان میں سے بعض تو اسلامی تعلیمات سے یکسر متناقض ہیں۔ جدید معاشی منظرنامہ کا ایک سب سے اہم وصف سود کا ہرسو غلبہ ہے۔ حتی ٰکہ فلاحی قرضے اور مراعات بھی سودپر مبنی ہیں۔ حکومت کی فنڈنگ کو بھی بعض اوقات جوئے اور غرر کے ذریعے فروغ دیاجاتاہے۔ پسماندہ طبقات کی پسماندگی دور کرنے کے لیے مسلمان ممکنہ حد تک ان منصوبوں میں شریک نہیں ہوسکتے اور نہ ہی سود پر مبنی قرضوں سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ نجی منصوبے مثلاًغیرسرکاری تنظیموں کے ذریعے چلائی جانے والی اسکیمیں بھی سود پر مبنی لین دین سے اپنےوسائل پیدا کرتی ہیں اور اپنے مالی معاملات کو مستحکم کرتی ہیں۔ اسی طرح ٹیکس بھی ایک ایسا آلہ ہے جو اسلام کے عدل و انصاف کے اصولوں کے مغائر ہے۔ اسی طرح کی دوسری مثالیں بھی موجودہ صورت حال کے حل کی غیراخلاقی اور بے اقدار نقطہ ٔنظر کو ثابت کرسکتی ہیں۔لیکن اس سیاق میں ان کا ذکر بے محل ہوگا۔
یہ کہنا بہت سہل ہے کہ مسلمانوں کو غیراسلامی اسکیموں اوران کے اجزا سے احتراز کرنا چاہیے۔ لیکن پھر ایک مزید مشکل صورتِ حال یہ ہے کہ ان تمام سرگرمیوں میں مطلوبہ حصہ داری دو باہم لازم و ملزوم پہلوؤں کی حامل ہے۔
 پہلا، اُن منصوبوں کو شناخت کرنا جو مکمل طورپر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں اور ایسے پہلوؤں کی نشان دہی کرناجو اسلامی اقدار سے یکسر متناقض ہیں۔ اس شناخت کی بنیاد پر بنیادی اسلامی اقدار کےتناظر میں اپنی ترجیحات کی فہرست تیارکی جا سکتی ہے۔ ہمارا تعاون ان ہی ترجیحات کی بنیاد پر طے ہوگا۔
 اس چیلنج کا دوسرا پہلو غریبوںاور محروموں کے لیے بنائے گئے فلاحی منصوبوں میں سے سود کے عنصر کو حتی الامکان دورکرنے کے لیے رائے عامہ کو ہموار کرنا ہے۔ تاکہ ان منصوبوں کے فوائد اصلی  و واقعی ہوں نہ کہ  فرضی(nominal)۔
البتہ اس سے سرکاری فنڈنگ سے سے اعانت یافتہ تعمیری سرمایہکاری کا اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ ہندوستان میں زراعت، دیہی صنعتیں اور چھوٹی صنعتیں اس طرح کی مالی اعانتوں کی خاص مثالیں ہیں ۔مسلمانوں کے لیے واحد راستہ یہ ہے کہ وہسرکار کے ان نیم فلاحی منصوبوں سے گریز کریں اور اپنی تمام تر توانائی ان کے متبادلات کی جستجو میں لگائیں۔ خوش قسمتی سے روایتی مالیاتی شعبہ(financial sector)رفتہ رفتہ  چند بنیادی میدانوں میں غیرسودی متبادلات کی طرفقدم بڑھارہا ہے۔ ہر چند کہ یہ مکمل طورپر اسلامی نہیں لیکن اس منتہا ئےنظرکے بے حد قریب ضرور ہیں۔مسلمانوں کی نجی مساعی بھی،خصوصاً اگر ہم غور کریں کہ جس طرح کےمعاندانہماحول میں انہیں کام کرنا پڑرہاہے، اس سمت میں بہت حد تک کامیاب رہی ہیں ۔ اس طرح رائےعامہ کی ہمواری کے لیے بھی بڑے پیمانے پر کوشش ہونی چاہئے کہ ایک غیرسودی مالی نظام جو اسلامی اخلاقی اصولوں کے تحت کام کرے جس میں مسلمانوں کو غیر سودی نظام چلانے کی قانونی آزادی ہو۔مونیٹری  اتھارٹیوں کے دائرہ اختیار سے غیر سودی نظام ضروری نہیں کہ پوری طرح سے خارج ہو بلکہ کریڈٹ کنٹرول کے مناسب غیرسودی آلات کے ذریعے اس کی سرگرمیوں کو کنٹرول کیاجاسکتا ہے۔(جاری)

شاید آپ کو یہ بھی پسند آئیں