مطبوعہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بچوں کے خلاف جرائم: ایک لمحۂ فکریہ




حضرت بلھے شاہ کا شہر قصور ان دنوں سرخیوں میں ہے۔  ایک ایسا دلخراش اور لرزادینے والا واقعہ پیش آیا ہے جس نے پورے پاکستان بلکہ پوری دنیا میں ہر صاحب ضمیر کو جھنجوڑ دیا اور  سننے والے بلبلااٹھے کہ ’ایہہ بلھے شاہ دا شہر نئیں‘۔ ایک سات سالہ پھول سی بچی زینب امین جس کے والدین عمرہ کے لیے مکہ گئے ہوئے تھے اپنی خالہ کے گھر سے قرآن پڑھنے کے لیے گھر سے نکلی  اورلوٹ کر نہیں آئی۔ پانچ دن کے بعد اس کی لاش اس کے گھر کے پیچھے کچرا کنڈی میں ملی۔ کسی نامعلوم درندے نے بچی کی عصمت دری کرکے اسے قتل کردیا تھا اور اس کی لاش کچرے میں پھینک دی تھی۔ یہ قصور میں ہونے والا کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔ اس سے قبل 2017 میں قصور ہی میں ایمان فاطمہ، لائبہ، ثنا، اسما اور نور فاطمہ نامی بچیوں کا اغوا ہوا اور ان کی لاشیں شہر کے مختلف حصوں سے برآمد ہوئیں۔ سارا پاکستان اور سوشل میڈیازینب اور اس کے جیسی سیکڑوں معصوموں کے حق میں سراپا احتجاج ہے۔ 
بچوں پر ہونے والے جرائم میں وطن عزیز ہندوستان کی تصویر بھی انتہائی تشویش ناک ہے۔  پچھلے ماہ 9 دسمبر کی ایک شب قومی راجدھانی سے دو سو کلومیٹر دور واقع ہریانہ کے ضلع حصار کے قصبے اُکلانہ کا واقعہ ہے۔ ایک چھ سالہ بچی کو اس کے گھر سے اٹھالیا گیا اور آبروریزی کے بعد انتہائی بہیمانہ طریقےسے قتل کرکے گلی میں پھینک دیا گیاجس کی تفصیلات درج کرتے ہوئے ہاتھ لرزتے ہیں۔ اس کے والدین وہاں جھگی میں قریب دس بارہ سال سے رہتے آرہے تھے اور محنت مزدوری کرکے گزارا کرتے تھے۔ مذکورہ واقعہ کی رات بچی کا باپ مزدوری کے لیے گڑگاؤں گیا ہوا تھاجبکہ اس کی ماں بچی کے ساتھ سورہی تھی۔ آج بھی اپنی بیٹی کی دردناک موت کو یاد کرکے والدین  روپڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی بچی نے آخر کسی کا کیا بگاڑا تھا کہ اس کے ساتھ ایسا وحشیانہ سلوک کیا گیا۔ (انڈیا ٹوڈے،  10 جنوری، 2018)
ملک بھر سے بچوں پر ہونے والے جرائم کی خبروں میں آئے دن اضافہ ہورہا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے گھروں اور اسکولوں میں بھی بچے محفوظ نہیں ہیں۔ پچھلے سال گڑگاؤں کے ایک ہائی پروفائل اسکول ریان انٹرنیشنل کے باتھ روم سے سات سالہ پردیومن ٹھاکر کے قتل کا واقعہ ابھی لوگوں کی یادداشت میں تازہ ہے۔ جرائم کا ریکارڈ رکھنے والے قومی بیورو این سی آر بی کی 2016 کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں بچوں کے خلاف جرائم میں 13 اعشاریہ 5 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ بہار میں یہ اضافہ 105 فیصد ہے، جبکہ بہار سرکار کا دعوی ہے کہ بچوں کے خلاف جرائم کےخلاف حکومت سرگرم اور عہد بستہ ہے اور اس سمت کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ 
دیگر ریاستوں کی حالت بھی انتہائی تشویش ناک ہے۔ 2016 میں اترپردیش میں 16079 معاملات درج کیے گئے جبکہ مدھیہ پردیش میں 13746، مہاراشٹر میں 14559، دلی میں 8178، راجستھان میں 4034 اور چھتیس گڑھ میں بچوں پر جرائم کے 4746 معاملات درج کیے گئے ہیں۔ ملک بھر میں مجموعی طور پر 106958 معاملات درج کیے گئے ہیں جن میں بچوں کے خلاف جنسی زیادتی کے 36022 معاملات ہیں اور ان میں 141 فیصد اضافہ دیکھا گیاہے۔(ایضاً، ص 19)



بچوں کے خلاف جرائم میں کم و بیش ہر ریاست میں اضافہ درج کیا گیا ہے۔ 2014 سے 2016 کے درمیان بیس فیصد کا اضافہ ہے۔ بچوں سے جنسی زیادتیوں کے واقعات میں بھی 82 فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے۔سخت ترین قوانین کے باوجود ریاستی حکومتوں سے لے کر مرکزی حکومت تک ان جرائم کو روکنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ 
ماہرین کے مطابق بچوں کے خلاف جرائم بڑھنے کی وجوہات میں غریبی، سرکاری بدعنوانی، اخلاقی قدروں کا دیوالیہ پن، انٹرنیٹ، موبائل فون اور اور ٹیلی وژن سرفہرست ہیں۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون عام ہونے اور ان پر آسانی سے فحش مواد کی دستیابی بھی جرائم کی ایک بڑی وجہ ہے۔  بچوں کے حقوق کے ایک سرکردہ کارکن کیلاش ستیارتھی کہتے ہیں:

 ’’معاشرے میں دو نسلیں شدید نفسیاتی اور تہذیبی فشار کے دور سے گزر رہی ہیں۔ ایک طرف تو امتناعات پر مرکوز اخلاقیات ہیں تو دوسری طرف کھلے پن اور اباحیت کی دعوت۔ اگر بچوں اور بڑوں کو اخلاقی جنسی تعلیم سے محروم رکھا جائے گا تو قدرتی طور پر ان نفسیاتی عوارض میں اضافہ ہوگا۔ گاؤں گاؤں میں انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون کے ذریعے فحاشی اور جنس زدگی کو مفت پروسا جارہاہے۔‘‘ (ایضاً، ص 20)
اگر یہ بات کوئی عام آدمی کہتا تو شاید اسے کسی بڑے میاں کی اخلاقی بڑ جان کر آسانی سے نظر انداز کردیا جاتا۔ لیکن یہ بات کیلاش ستیارتھی کہہ رہے ہیں جنھیں 2014 میں امن کا نوبیل انعام دیا چکا ہے، جن کا بچوں کے حقوق کی بازیابی نیز بچوں سے جڑے جرائم مافیا کو سمجھنے کا بیسیوں برسوں کا وسیع تجربہ ہے۔ انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون کی ہلاکت خیزی محض نئی نسلوں کو برباد نہیں کررہی ہے بلکہ اس کا راست اثر بچوں سے جڑے جرائم سے ہے۔ یہی بات کیا کم تشویش ناک ہے کہ بچوں کے استعمال سے چلنے والی پورن ویب سائٹوں کا سالانہ عالمی دھندہ 100 ارب ڈالر سے متجاوز ہوچکا ہے۔
آخر اس کا حل کیا ہو؟ کیلاش ستیارتھی کے مطابق بچوں پر ہونے والے جرائم کی روک تھام ایک ہمہ گیر جدو جہد کی متقاضی ہے جس کے لیے مختلف محاذوں پر کام کرنا ہوگا۔ ایک کام تو مقامی و سماجی حالات کا لحاظ کرتے ہوئے مختلف عمر کے بچوں کو اپنے جسم کو محفوظ رکھنے کے حقوق سے متعلق تعلیم دینی ہوگی۔ تعلیم کے ذریعے جب وہ اپنے حقوق سے باخبر ہوں گے تو جنسی زیادتی کے علاوہ اور بھی مختلف قسم کی زیادتیوں سے خود کو بچاسکیں گے۔ دوسرا اہم کام یہ ہونا چاہیے کہ سماجی و مذہبی مقامات پر ان موضوعات پر اخلاقی تربیت کا نظام قائم ہو اور سنجیدہ گفتگوکا ماحول بنایا جائے۔ والدین اپنی بڑھتی عمر کے بچوں سے سلیقے سے حساس جنسی موضوعات پر بات کریں، ان کو اجنبیوں کے ساتھ ملنے کے خطروں سے باخبر کرائیں اور انھیں اخلاق باختہ مواد، انٹرنیٹ اور ٹیلی وژن کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے ٹکنالوجی کے مثبت استعمال کے لیے متحرک کریں ساتھ ہی انھیں تخلیقی اور بارآور کاموں کی رغبت دلائیں۔ انھیں خالی نہ بیٹھنے دیں اور ان کے دوستوں اور ملنے جلنے والوں پر بھی کڑی نظر رکھیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ پولیس اور پیشہ ورانہ قانونی ماہرین کو بچوں کے خلاف جرائم کے تئیں حساس بنایا جائے اور ان کی پیشہ ورانہ تربیت کی جائے۔ ستیارتھی ہر ضلع میں خصوصی عدالتوں نیز مختلف سطح کی کمیٹیوں اور کمیشن  کے قیام کے حق میں ہیں اور خواتین کمیشن کی طرز پر حقوق اطفال کے لیے ایک قومی اتھارٹی کے قیام کی بھی وکالت کرتے ہیں۔
قانون بچوں کے خلاف جرائم کو سنگین ترین جرائم تصور کرتا ہے۔ اسلام قصاص کو قوموں کے لیے حیات قرار دیتا ہے۔ تاہم قانون کو اپنا کام کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ عام شہریوں کو رپورٹ درج کرانے سے لے کر مختلف ضوابط اور قوانین کی بنیادی معلومات ہوں۔ ساتھ ہی عام لوگوں کو بھی قانون کی مدد کے لیے جرأت مندی اور حوصلے سے، مصحتوں کو بالائے طاق رکھ کر  آگے آنا ہوگا اور بچوں پر ہونے والے جرائم اور زیادتی کی رپورٹ کرنی ہوگی۔
جرائم کے ریکارڈ بولتے ہیں کہ روزانہ کتنی ہی زینب وحشی درندوں کی ہوس کا شکار ہوجاتی ہیں۔ یہ انسانیت کا پست ترین مقام ہے۔ زینب کا مجرم اب بھی قانون کی گرفت میں نہیں آسکا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اسے بھرے پرے بازار سے اغوا کیا گیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ عام لوگ مجرم کو پکڑنے میں آگے نہیں آتے ہیں۔ اس صورت حال پر ایک عبر ت انگیز واقعہ پیش کرتا ہوں جسے فیس بک پر نعیم اکرام نے نقل کیا ہے۔ اگرچہ یہ موضوع سے راست متعلق نہیں ہے تاہم ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ ضرور کرتا ہے۔
چین میں بغاوت کامیاب ہونے کے بعد ماؤزے تنگ نے زمام اقتدار سنبھالی اور کہنہ روایات اور شاہی قوانین کے ملبے پر نئے نظام کی بنیاد رکھی۔ نئے قواعد و ضوابط کو کسی بھی نوع کی مصلحت سے آزاد قرار پائے۔ اگرچہ جرم اور مجرم کو آسمان تلے کوئی پناہ گاہ یا سہولت کار دکھائی نہ دیتا تھا مگر اس کے باوجود شر کو نکاسی کی کوئی نہ کوئی راہ مل ہی جاتی تھی۔
ایک دفعہ بیجنگ شہر کے ایک محلے میں ایک نو عمر لڑکی سے زنا بالجبر کا واقعہ پیش آیا اور مجرم روپوش ہو گیا۔ ماؤ تک خبر پہنچی۔ وہ خود متاثرہ لڑکی سے ملا اور اس سے پوچھا: ’’جب تم سے زیادتی کی گئی تو کیا تم مدد کے لیے چلائی تھیں ؟‘‘
لڑکی نے اثبات میں سر ہلایا۔ 
ماؤ نے اس کے سر پر دستِ شفقت رکھا اور نرمی سے کہا: ’’میری بچی! کیا تم اسی قوت کے ساتھ دوبارہ چلا سکتی ہو ؟‘‘
لڑکی نے کہا : ’’ہاں‘‘
ماؤ کے حکم پر گارڈ کے کچھ اہل کار نصف کلومیٹر کے دائرے میں کھڑے کر دیے گئے۔ اس کے بعد لڑکی سے کہا گیا کہ : ’’پوری قوت کے ساتھ چیخو!‘‘
لڑکی نے ایسا ہی کیا۔ ماؤ نے تمام اہل کاروں کو بلایا اور ہر ایک سے پوچھا گیا کہ لڑکی کی چیخ سنائی دی یا نہیں؟
سب نے اثبات میں جواب دیا۔
ماؤ نے اگلا حکم صادر کیا کہ نصف مربع کلومیٹر کے اس علاقے کے تمام مردوں کو گرفتار کر لیا جائے اور آدھے گھنٹے کے اندر اگر مجرم کی درست نشاندہی نہ ہو سکے تو تمام گرفتار مردوں کو گولی سے اڑا دیا جائے۔
حکم کی فوری تعمیل ہوئی اور دی گئی مہلت کو ابھی بمشکل دس منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ مجرم کی نشاندہی ہوگئی اور اگلے بیس منٹ کے اندر اندر مجرم کو پکڑ کر ماؤ کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ لڑکی نے شناخت کی۔ موقع پر فیصلہ ہوا اور مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے میں دیر نہیں کی گئی۔ 
کاش آج اگر قانون نافذ کرنے والے اسی سرعت سے کام کرتے، اور عام لوگ مصلحت اندیشی کی بنا پر مجرموں کی پشت پناہی نہ کرتے تو قصور کی معصوم زینب کو یہ روز سیاہ نہ دیکھنا پڑتا جس کے بعد اس کی آنکھیں ہی نہ کھل سکیں۔

(بشکریہ حجاب اسلامی، نئی دہلی، شمارہ فروری 2018)

ہندوستان میں مسلم پرسنل لا: مختصر تاریخی پس منظر



انگریزوں کی آمدسےقبل ہندوستان میں جب مسلمانوں کے ہاتھ میں ملک کا اقتدار تھا، اس وقت تمام شعبہ ہائے حیات پر اسلامی قوانین ہی کا اطلاق ہوتاتھا۔ مغلیہ دور حکومت (۱۵۲۶-۱۸۵۸) میں ملک کا قانون اسلامی شریعت تھا۔ مغلوں نے اپنے دور حکومت میں عدالتی نظام کو بخوبی منظم کیا ۔ مورخ واحد حسین  ۱؎  لکھتا ہے کہ مغلیہ دور کے نظام عدلیہ نے ہندوستان کے موجودہ نظام عدالت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ جے این سرکار کے بقول یہ نظام پورے ہندوستان کے متمدن معاشرے کو محیط تھا۔ مغل دور کے ایک معروف مؤرخ ابن الحسن نے لکھا ہے کہ سلطان کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ اپنی سلطنت میں قرآنی احکامات اور شریعت اسلامیہ کو نافذ کرے۔ چنانچہ عدالتوں میں دیوانی و فوجداری معاملات کا فیصلہ اسلام کے اصولوں پر ہوتا تھا۔ تاہم غیر مسلموں کو اپنے شادی بیاہ اور وراثت وغیرہ کے معاملات میں ان کے مذہبی یا رواجی قوانین پر عمل کرنے کی پوری آزادی تھی۔ یعنی ان کا اپنا پرسنل لا تھا اور مسلمانوں کا اپنا پرسنل لا۔ پرسنل لا سے مراد خاندانی زندگی کے وہ مسائل ہیں جن کا تعلق شادی بیاہ، طلاق، خلع، زوجین اور اولاد و والدین کے حقوق، وراثت، ہبہ وغیرہ سے ہو۔ فقہ اسلامی میں اسے ’’مناکحات‘‘ سے تعبیر کیا گیاہے جبکہ جدید قانونی اصطلاح میں اسے ’’پرسنل لا ‘‘ کہا جاتا ہے۔ جدید قوانین کی دوقسمیں ہوتی ہیں: دیوانی (سِول) اور فوج داری (کرمنل) ہیں۔ فوج داری قوانین تمام ملک و الوں کےلیےیکساں ہوتے ہیں اور ان میں نسل، عقیدے یا مذہب کی بنیادپرکسی قسم کی کوئی امتیاز نہیں رکھا جاتا۔ البتہ دیوانی قوانین کاتعلق معاشرتی و تمدنی مسائل اور معاملات سےہے۔ اس کاایک حصہ پرسنل لا ہوتا ہے جس کےتحت مخصوص گروہوں کواختیارحاصل ہوتا ہے کہ خصوصاً عائلی معاملات سےمتعلق معاملات کا فیصلہ مقدمےکافیصلہ اس گروہ کے رواجی یا مذہبی قانون کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اسی کانام پرسنل لاہے۔
یہ ایک ناقابل تردید واقعہ ہے کہ ہندوستان میں اپنے پانچ سوسالہ دور اقتدار میں مسلم حکمرانوں نے غیر مسلموں کو اپنے پرسنل لا کاپابند نہیں بنایا، بلکہ ہندواپنےمذہب کےمطابق عمل کرتےتھے اور مسلمان پنی شریعت پر۔ انگریزوں کےپونے دو سو سالہ دور حکومت میں بھی ہندوؤں کو ہندو پرسنل لا اورمسلمانوں کومسلم پرسنل لا پرعمل کرنے کا اختیار تھا۔
تاہم جب انگریزاقتدار پر قابض ہوئے تو نہ صرف انھوں نےمسلمانوں کوحکومت سےبےدخل کیا بلکہ منظم انداز میں مسلمانوں کو اپنی شریعت اورتہذیب وتمدن سےبھی محروم کردینےکی مذموم کوشش کی۔ انگریزوں کی آمد کے بعد جب رفتہ رفتہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں اقتدار حاصل کرلیا اور ملک کے انتظامات اپنے ہاتھ میں لینا شروع کیے تو ۱۷۶۵ء میں عدالتوں کی از سر نو تنظیم کی گئی۔ اس وقت بھی انگریز جج مسلمان علما اور ماہرین قانون کی مدد سے اسلامی شریعت کے مطابق ہی فیصلے کرتے رہے۔ ۱۸۶۰ کے عشرے میں مسلمانوں کےفوج داری قوانین پرحملہ ہوا۔ اس کےبعدشریعت کے قانون شہادت، قانون معاہدات، قانون بیع وشرا، یہاں تک کہ یکے بعد دیگرے تمام اہم قوانین کالعدم قراردےدیےگئے۔ مسلمانوں کوصرف اپنےچندعائلی قوانین پرعمل کرنےکی اجازت رہ گئی۔ یہاں تک کہ ۱۸۶۲ء میں اسلام کے فوج داری قانون کو ختم کرکے انڈین پینل کوڈ کے نام سے نیا قانون نافذ کیا گیا، جو آج بھی اسی نام سے رائج ہے۔ البتہ نکاح، طلاق، خلع، مہر، نان و نفقہ، وراثت ہبہ وغیرہ جیسے عائلی اور شخصی نوعیت کے مسائل کی حد تک اسلامی قانون کو باقی رہنے دیا گیا۔۲؎
انگریز چاہتے تھے کہ مسلمانوں سے ان کے شرعی قوانین بھی چھین لیے جائیں۔ تاہم برطانوی رائل کمیشنوں نےانتباہ دیا کہ مسلمانوں کے پرسنل لا کا ان کےدین وعقیدہ سے گہرارشتہ ہے۔ اسے ان کی روزمرہ زندگی سے الگ کر دینا اور اس میں مداخلت کا مطلب مسلمانوں کےسلگتےہوئے جذبات کوبھڑکادیناہے۔ ۱۸۵۷ کے غدر کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا جس میں انگریزوں کے خلاف مسلمانوں نے جذبہ جہاد کے تحت عظیم قربانیاں پیش کی تھیں۔ انگریزی حکومت مزید کسی عام بغاوت کی متحمل نہیں ہوسکتی تھی۔ چنانچہ وہ شرعی قوانین میں مداخلت سےبازرہی۔
برطانوی دور حکومت میں ۱۹۳۰ کی دہائی میں میمن برادری کی ایک مسلمان لڑکی نے وراثت کا ایک مقدمہ انگریزی عدالت میں دائر کردیا۔ شریعت اسلامیہ کی رو سے بیٹی لازمی طور پر اپنے باپ کی متروکہ جائداد کی وارث ہوتی ہے۔ تاہم اس مقدمےکافیصلہ ہندورسم ورواج کے مطابق کیا گیا اور ایک مسلمان لڑکی کو باپ کی وراثت میں اس کےحق سےمحروم کردیاگیا۔  اسلامی نقطہ نظر سے یہ ایک صریح ظلم تھا کہ ایک عورت کو محض اس کے عورت ہونے کی وجہ سے میراث سے محروم کردیا جائے۔ تب پہلی بارعلمانےتحفظ شریعت کی آوازبلند کی اور ملک گیر تحریک چلائی۔ زبردست جدوجہد کےنتیجےمیں ۱۹۳۷میں مسلم پرسنل لا (شریعت) اطلاق ’’شریعت اپلیکیشن ایکٹ‘‘پاس ہوا۔ یہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تہذیبی شناخت اورشریعت کی حفاظت کےتعلق سےپہلی کامیابی تھی۔ درحقیقت یہی وہ پہلی لہرتھی جس نےمسلمانوں کی موجودہ مسلم پرسنل لا کےدروازےتک رہنمائی کی۔
شریعت اپلیکیشن ایکٹ میں کہا گیا کہ اس کا اطلاق شادی بیاہ، فسخ نکاح، طلاق، ایلا، ظہار، لعان، خلع، نان و نفقہ، مہر، ولایت، ہبہ اور اوقاف وغیرہ کے معاملات میں جہاں فریقین مسلمان ہوں فیصلے کا قانون (rule of decision) مسلم پرسنل لا ہوگا۔ نیز یہ کہ مسلمانوں کے شخصی نوعیت کے معاملات میں حکومت دخیل نہیں ہوگی اور انھیں اپنے مذہب کے مطابق اپنے معاملات فیصل کروانے کی آزادی ہوگی۔ موجودہ آئین ہند میں اس ایکٹ کو باقی رہنے دیا گیا ہے۔ ۱۹۳۹ء میں جب انفساخ نکاح قانون (Dissolution of Marriage Act, 1939) کا نفاذ عمل میں آیا جس میں فقہ مالکی سے استفادہ کرتے ہوئے ان اسباب کو متعین کیا گیا تھا جن کی بنیاد پر ایک مسلمان عورت اپنے شوہر سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کرسکتی ہے۔ مثلاً ، اگر شوہر ۴؍ سال تک مفقود الخبرہے، یا ۲؍ سال سے نان و نفقہ نہیں دیتا، یاظلم و زیادتی کرتا ہے یا امراض خبیثہ میں مبتلا ہے وغیرہ، تو اس بنیاد پر عورت فسخ نکاح کا فرمان (decree) حاصل کرسکتی ہے۔۳؎
دستور میں پرسنل لا صرف مسلمانوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں۔ دیگر مذاہب کے لیے بھی پرسنل لا وضع کیے گئے ہیں۔ ہندو وراثت قانون Hindu Succession Act, 1956)) ہندو، سکھ، بودھ اور جین کے لیے جائداد کی تقسیم کے معاملات کا فیصلہ کرنے لیے بنایا گیا۔ پارسی شادی و طلاق قانون ۱۹۳۶ء میں پارسیوں کو ان کے مذہبی عقیدے کے مطابق شادی بیاہ اور علیحدگی کی آزادی دی گئی ہے۔ ہندو شادی قانون ۱۹۵۵، ہندوؤں کو اپنے رسوم اور مذہبی عقائد کے مطابق عمل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ بلکہ ۱۹۵۵ء میں اس قانون میں ترمیم کرکے اس میں طلاق کے ضوابط شامل کیے گئے تھے جو اس سے پہلے اس قانون کا حصہ نہیں تھے۔ ۴؎
یکساں سول کوڈ اور مسلم پرسنل لا بورڈ کا قیام
اسے ہندوستان کی بدقسمتی ہی کہا جائے گا کہ یہاں کی سب سےبڑی اقلیت آزادی سےپہلےبھی اپنے تشخص، تہذیب و تمدن نیز اپنے دین پر عمل کرنے کے تعلق سے خطرات و اندیشے کاشکاررہی اوراسےباربارآزمائشوں میں ڈالاجاتارہا۔ اورجب ملک نے صبح آزادی میں آنکھ کھولی اس وقت بھی وطن عزیز کی یہ بڑی آبادی اپنے مستقبل کےگرد اندیشوں کی تاریک پرچھائیاں دیکھ رہی تھی۔
آزادی کے بعد وطن عزیز نے، جو مختلف مذاہب اور تہذیبوں کاگہوارہ ہے، اپنے لیے جمہوریت کوطرزحکمرانی کے طور پر منتخب کیا۔ سیکولرزم ملک کے آئین کی بنیاد ٹھہرا۔ بنیادی حقوق کے طور پر عقیدہ وضمیر کی آزادی اوراقلیتوں کےحقوق کی ضمانت دی گئی جوہندوستان جیسےتکثیری معاشرے کےلیےناگزیربھی تھا۔
دستور کے ذریعے عطا کردہ بنیادی حقوق کی رو سے اور دستور ہند میں مختلف پرسنل لا کی شمولیت سے یہ بات واضح ہے کہ تمام مذاہب اور بالخصوص اقلیتوں کو اپنے مذاہب پر عمل کرنے، مذہب کی تبلیغ کرنے اور یقینی طور پر اپنےاپنے پرسنل لا اور سول کوڈپر عمل کرنے کی پوری آزادی حاصل ہے۔ اس میں مسلم پرسنل لا بھی شامل ہے۔ معزز عدالتیں اس حق کو تسلیم کرتی رہی ہیں اور وقتاً فوقتاً اسلامی شریعت کے مطابق فیصلے کرتی رہی ہیں۔ تاہم آزادی سے پہلے سے ہی ملک میں ایک مخصوص طبقہ سرگرم رہا ہے جس کی کوشش یہ ہے کہ ملک کی تمام اقلیتوں کو ایک خاص تہذیب میں ضم کردیا جائے۔ اسی طبقے کی کوششوں سے دستور کی دفعہ ۴۴ میں، جو رہنما اصولوں سے متعلق ہے، ایک شق ڈال دی گئی جو اس طرح ہے:
The State shall endeavor to secure for citizens Uniform Civil Code throughout the territory of India.
یعنی ’’ریاست کوشش کرے گی کہ پورے ملک میں شہریوں کے لیے یکساں سول کوڈ ہو۔ ‘‘
جب آئین ساز اسمبلی میں ریاست کے لیے رہنما اصولوں پر مبنی مسودہ ٔدستور کی دفعہ ۳۵ پر غور ہورہا تھا (یہی دفعہ بعد میں چل کر دفعہ ۴۴ بن گئی)، اس وقت مسلم ممبران پارلیمنٹ نے اس پر کئی ترمیمات پیش کی تھیں۔ مدراس کے جناب محمد اسماعیل نے ترمیم پیش کی کہ یکساں سول کوڈ کے لیے عوام کے کسی گروہ، فرقے یا طبقے کو اس بات کے لیے مجبور نہ کیا جائے کہ وہ اپنے پرسنل لا کو ترک کردے، اگر وہ ایسا کوئی قانون رکھتا ہو۔ دوسری ترمیم جناب نذیرالدین احمد نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ ریاست نے جس فرقے کے پرسنل لا کو ضمانت دی ہے اس کے سول کوڈ کو تبدیل نہ کیا جائے ، الّا یہ کہ اس فرقے سے پیشگی منظوری حاصل کرلی جائے۔ ایک دیگر ترمیم محبوب علی بیگ صاحب بہادرنے پیش کی تھی جس میں کہا گیا کہ یہ دفعہ شہریوں کے پرسنل لا کو کسی صورت متاثر نہ کرے ۔۵؎  ان ترمیمات پر گرما گرم بحثیں ہوئیں ۔ بہت سے غیر مسلم ارکان نے شریعت ایکٹ کے حوالے سے کہا کہ اس سے مسلمانوں کے خوجہ اور بوہرا طبقوں میں عدم اطمینان پایا جاتا ہے۔ انگریزوں کے دور میں بعض مسلم علاقوں میں ہندو قوانین سے فیصلے کیے جانے کے نظائر بھی پیش کیے گئے اور مصر اور ترکی میں پرسنل لا ساقط کیے جانے حوالے دیے گئے۔ آخر میں ڈاکٹر امبیڈکر نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ دفعہ ۳۵ سے کچھ زیادہ ہی خائف ہیں اور انھیں یقین دہانی کروائی کہ ان پر یکساں سول کوڈ ہرگز جبراً تھوپا نہیں جائے گا اور آئندہ پارلیمنٹ یکساں سول کوڈ میں یہ اہتمام رکھے گی کہ اس کا نفاذ خالصتاً انھیں گروہوں پر ہوگا جو رضاکارانہ طور پر اسے تسلیم کرلیں :
My second observation is to give [Muslims] an assurance. [The Article] does not say that after the Code is framed, the State shall enforce it upon all citizens merely because they are citizens. It is perfectly possible that the future parliament may make a provision by way of making a beginning that the Code shall apply only to those who make a declaration that they are prepared to be bound by it, so that in the initial stage the application of the Code may be purely voluntary.…[I], therefore, submit that there is no substance in these amendments and I oppose them. ۶؎
اور اس وقت ملک کے حالات ایسے نہیں تھے کہ یکساں سول کوڈ کے خلاف کوئی تحریک چلائی جائے، اس لیے یہ دفعہ جوں کی توں باقی رہی۔ تاہم کچھ عرصے بعدمحسوس ہونے لگا کہ حکومت کے تیور اچھے نہیں ہیں اور وہ مسلمانوں کو ان کے شرعی قوانین سے محروم کرنے کے درپے ہے۔
ہر چند کہ یہ شق دستور کی دفعہ ۴۴ میں مشمولہ دیگر رہنما اصولوں کی طرح محض ایک اصول کی حیثیت رکھتی ہے، اور شہریوں کے بنیادی حقوق سے متعلق دستور کی ایک اہم دفعہ (دفعہ ۲۵) سے متصادم بھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تمام لوگوں کو یکساں طور پر ضمیر کی آزادی حاصل ہوگی اور اپنے مذہب کو آزادانہ طور پر اختیار کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا بھی حق حاصل ہوگا۔ ایک طرف دستورہند کی دفعات۲۵، ۲۹، ۳۰ میں مسلم پرسنل لاکوقانونی طورپرتسلیم کرلیاگیا، لیکن ساتھ ہی دستورکےرہنمااصول دفعہ ۴۴ کےذریعےحکومت کواس بات کابھی اختیاردیاگیاکہ وہ پورےملک کےلیےیکساں سول کوڈ کانفاذ بھی کرسکتی ہے۔ یہ گویا ایسی ننگی تلوارتھی جسے مسلمانوں کی شریعت پرمستقل طورپرلٹکادیاگیا۔
 دستورکی اسی کمزوردفعہ ۴۴ کی آڑ میں مسلم پرسنل لا پر اعتراضات کرنے اور اس کے آئینی حق کو سلب کروانے اور مسلمانوں کواکثریتی دھارےمیں ضم کرلینےکی دھمکیاں بھی دی جانےلگیں۔ دھیرےدھیرےاس صورت حال کی سنگینی میں اضافہ ہوتاگیا۔ یہاں تک کہ آئینی اداروں سےبھی ایسےاحکامات صادرہونےلگےجودستورکی روسےدی گئی مذہبی آزادی میں صریح مداخلت اوراقلیتی حقوق کوسلب کرنےوالےتھے۔ مثلاً ’’اسپیشل میرج ایکٹ‘‘کےچوردروازےسےاسلامی قانون نکاح اورقانون وراثت میں خردبردشروع کی گئی۔ ۱۹۵۰ء میں ہندو کوڈ بل پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر قانون مسٹرپاٹسکر نے کہا تھا کہ ہندوقوانین میں جواصلاحات کی جارہی ہیں، وہ مستقبل قریب میں ہندوستان کی تمام آبادی پر نافذ کی جائیں گی۔ پھر ۱۹۶۳ء میں مرکزی حکومت نے مسلم پرسنل لا میں ’’اصلاح‘‘ کی غرض سے ایک مستقل کمیشن قائم کردیا۔ اس اقدام نے حکومت کے منفی رویے کو واضح کردیا۔ ۱۹۷۲ء میں پارلیمنٹ میں متبنی بل (بچوں کو گود لینے سے متعلق) پارلیمنٹ میں پیش کردیاگیا۔ اس کی روسےگود لیے گئے بچے کو وہی قانونی حیثیت دی گئی جو حقیقی اولاد کو ہوتی ہے اور وہ میراث میں برابر کاشریک ٹھہرایا گیا۔ اس قانون کا اطلاق مسلمانوں پر بھی ہوتا تھا جو سراسراسلامی شریعت کےمنافی تھا۔
یہی نہیں بلکہ یکساں سول کوڈ کے حامیوں کو اس وقت بڑی شہ ملی جب ملک کے وزیر قانون مسٹر ایچ آر گوکھلے نے پارلیمنٹ میں متبنی بل پیش کرتے ہوئے یہ کہا کہ یہ یکساں سول کوڈ کی تدوین کی طرف پہلا قدم ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ملتِ اسلامیہ میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔
اس پس منظر میں امارت شرعیہ بہار کے امیر شریعت مولانا سید منتﷲ رحمانیؒ نے جولائی ۱۹۶۳ء میں پٹنہ میں بہار اسٹیٹ مسلم پرسنل لا کانفرنس طلب کی۔ ملک کی دو بڑی تنظیموں (جمعیۃ علماء ہند اور جماعتِ اسلامی ہند) کے اس وقت کے سربراہان مفتی عتیق الرحمن عثمانیؒ اور مولانا ابواللیث اصلاحی ندوی ؒکے علاوہ مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ، مولانا عبدالرؤفؒ ایم، ایل، سی (ناظم جمعیۃ علماء اتر پردیش) اور منظور احسن اعجازی بھی اس اجلاس میں شریک ہوئے۔ اس طرح اسلامیان ہند کی یہ پہلی متحدہ و مشترکہ آواز تھی جو شریعت میں مداخلت کے نتیجے میں بلند ہوئی۔ مارچ ۱۹۷۲ء میں دیوبند میں مسلم پرسنل لا کے موضوع پر ایک کل جماعتی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں ملت کے سرکردہ قائدین نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں طے پایا کہ ممبئی میں اس موضوع پر ایک نمائندہ کنونشن کا انعقاد کیا جائے۔ چنانچہ دسمبر ۱۹۷۲ء میں یہ تاریخ ساز نمائندہ کنونشن منعقد کیا گیا۔ تمام مکاتب فکر کے علما و دانشووراس میں شریک تھے۔ ہندوستان کی تاریخ خلافت تحریک کے بعد یہ اپنی نوعیت کا منفرد اور بے مثال اجتماع تھا۔  اس اجلاس میں اتفاق رائے سے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کنونشن میں تین تجاویز منظور کی گئیں: (۱) مسلم پرسنل لا مسلمانوں کے دین و مذہب کا جز ہیں، کسی پارلیمنٹ یا ریاستی مجالس قانون ساز کو ان میں ترمیم کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ (۲) متبنی بل اپنی موجودہ شکل میں شریعت میں مداخلت ہے اور مسلمانوں کو اس سے مستثنی رکھا جائے۔ (۳) اس کنونشن کے ذریعے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تشکیل کی جاتی ہے جو ہمیشہ ہر فرقہ مسلم کے علما ، ماہرین شریعت، مسلم قانون داں اور ملت کے دیگر ارباب حل و عقد پر مشتمل ہوگا۔ ۷؎
۸؍ اپریل ۱۹۷۳ء کو اجلاس حیدرآباد میں بورڈ کی تشکیل عمل میں آئی۔ مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ بورڈ کے پہلے صدر اور مولانا سیدمنتﷲ رحمانی صاحبؒ بورڈ کے پہلے جنرل سکریٹری منتخب ہوئے۔ ۸؎
بورڈ کے بنیادی مقاصد میں تین باتیں شامل ہیں: (۱) مسلمانوں کو پرسنل لا کے بارے میں باشعور رکھنا، نیز پارلیمنٹ اور صوبائی مجالس قانون ساز اور عدلیہ میں زیر بحث آنے والے ایسے تمام قوانین کی تشریح پر نظر رکھنا جن کا تعلق براہ راست یا بالواسطہ مسلم پرسنل لا سے ہو۔ (۲) محمڈن لا کا جائزہ لینا اور مختلف دبستان  فقہ سے استفادہ کرتے ہوئے ، مناسب حدود میں واقعی دشواریوں کو ماہرین و علما کے باہمی مشورے سے حل کرنا۔ (۳) مسلمانوں کو عائلہ و معاشرتی زندگی کے بارے میں شرعی احکام ، حقوق و فرائض  سے واقف کرانا، اس سلسلے میں ضروری لٹریچر کی اشاعت نیز مختلف مکاتب فکر کے درمیان  اتحاد و اتفاق کو پروان چڑھانا۔
۱۹۸۳ء میں قاری طیب صاحبؒ کی وفات کے بعد چنئی کےاجلاس میں مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کو بورڈ کادوسرا صدر منتخب کیا گیا۔ ان کے بعد ۲۰۰۰ء میں لکھنؤ اجلاس میں مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ بورڈ کے تیسرے صدر منتخب ہوئے۔ ان کے بعد جون ۲۰۰۲ء میں حیدرآباد اجلاس میں موجودہ صدر مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کا بحیثیت صدر انتخاب عمل میں آیا۔ مختلف اوقات میں، دیوبندی حلقہ سے امیر شریعت مولانا ابوالسعود احمدؒ، بریلوی مکتبہ فکر سے مولانا مفتی برہان الحق جبل پوریؒ، مولانا مظفر حسین کچھوچھویؒ، مولانامحمد محمدالحسینیؒ (سجادہ نشیں گلبرگہ شریف) ، شیعہ مکتبہ فکر سے مولانا کلب عابد مجتہد، اہل حدیث حلقہ سےمولانا ڈاکٹر عبد الحفیظ سلفیؒ، مولانا مختار احمد ندویؒ، جماعت اسلامی سے مولاناابواللیث اصلاحی ندویؒ، مولانا محمدیوسف صاحبؒ اور مولانا سراج الحسن صاحب بورڈ کے نائب صدر رہ چکے ہیں۔ اس وقت مولانا محمد سالم قاسمی، مولانا سید شاہ فخر الدین اشرف، مولانا کلب صادق (لکھنؤ) مولانا سیدجلال الدین عمری اورمولانا کاکا سعید احمد عمری نائب صدر ہیں ۔ ۹؎
مصادر
۱.  حسین، واحد، Administration of Justice During the Muslim Rule in India ۱۹۳۴۔ طبع ثانی  ۱۹۸۶۔ نئی دہلی، ص ۱۰۳-۱۰۹
۲.  پیرزادہ، شمس ، مسلم پرسنل لا اور یکساں سول کوڈ، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی، ۲۰۱۴، ص۷۔
۳.  ایضاً۔ ص ۸۔
۴.  انڈین ایکسپریس، ویب سائٹ http://indianexpress.com/article/research/shariat-muslim-personal-law-sharia-history-shayara-bano-shah-bano-triple-talaq-personal-laws-religious-laws-uniform-civil-code-2784081/
۵.  پارلیمنٹ آف انڈیا،  ویب سائٹ۔  http://parliamentofindia.nic.in/ls/debates/vol7p11.htm
۶.  ایضاً
۷.   آل اندیا مسلم پرسنل لا بورڈ خدمات و سرگرمیاں، ناشر آ انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، نئی دہلی، ۲۰۱۰۔
۸.  بصیرت آن لائن، ویب سائٹ۔ http://www.baseeratonline.com/40715.php
۹.  ایضاً

عصر حاضر میں مذہب کی اہمیت و معنویت


ہر چند کہ سیکولرازم کے فروغ کی وجہ سے اخلاقیات کو مذہب سے الگ جز تصور کیا جانے لگا ہے لیکن یہ ایک حقیقت کہ تمام مذاہبِ عالم عمومی سماجی اخلاقیات کاکم و بیش یکساں درس دیتے ہیں۔تمام مذاہب میں جھوٹ، چوری، لوٹ مار، قتل و غارت گری، زنا او ردیگر اخلاقی خامیوں کی یکساں ممانعت وارد ہوئی ہے۔ انسانی زندگی میں مذہب معنویت اور رنگ پیدا کرتا ہے۔دنیا کی تمام تر ثقافتی، سماجی ، اخلاقی اور فلسفیانہ ترقی کا رشتہ مذہب سے ہے۔  مذہب انسانوں کو قریب لانے کا ذریعہ ہے۔ غور کیجیے، آپ پچھلی بار اپنے دور رہنے والے اعزا و اقارب سے کب ملے تھے۔ غالب امکان یہی ہے کہ ایسا موقع کسی مذہبی تہوار نے فراہم کیا ہوگا۔  تمام منظم مذاہب انسانوں کو برادری کا شعور بخشتےہیں۔ انسان بغیر معاشرے اور برادری کے کتنا تنہا محسوس کرے گا۔ آپ کے سامنے سے گزرنے والے اجنبی سے ہوسکتا ہے آپ کا کوئی تعلق نہ ہو، لیکن مذہب اس احساس اجنبیت کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ہمیں احساس کرواتا ہے کہ ہم ایک مضبوط برادری کا حصہ ہیں۔ پھر مذہب ہمیں زندگی کرنے کا ہنر سکھاتا ہے۔ یہ علم کی تحصیل اور روزمرہ زندگی میں اسے برتنے پر یکساں زور دیتا ہے۔ دنیا کی کوئی بھی یونیورسٹی آپ کو یہ نہیں سکھاتی کہ تنہائی میں آپ کیسے رہیں، آپ کا اخلاقی رویہ کیا ہو،جب آپ کو کوئی نہ دیکھ رہا ہو اس وقت آپ اپنے کردار کو برائیوں سے کیسے دور رکھیں ؟یہ آداب مذہب سکھاتا ہے۔ 

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے


شکیل شمسی کے حالیہ کالم پر تبصرہ

ایک امریکی مصنف کا مقولہ ہے کہ 'ہٹ دھرمی اچھی بھی ہو سکتی ہے اور بری بھی۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اسے کیسے استعمال کرتے ہیں۔'  ہٹ دھرمی کیسے کسی پر اثر انداز ہوتی ہے اور کس طرح بھلے برے کی تمیز چھین لیتی ہے اس کی حالیہ مثال شمسی صاحب ہیں جنہوں نے اپنے گزشتہ دو اداریوں کے بعد ایک اور اداریہ ڈاکٹر ذاکر نائیک پر لکھ مارا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ احباب کے بار بار سمجھانے پر اور ان کی لغزشوں کی نشان دہی کے بعد اپنے موقف پر نظر ثانی کرتے، اتحاد ملت کی خاطر اپنی رائے سے رجوع کرتے اور جو حق ہے اسی کا ساتھ دیتے۔ اگر ایسا نہیں کرسکتے تھے تو کم از کم خاموشی اختیار کر لیتے۔ لیکن ہائے رے پندار اور انا کی فتنہ سامانیاں، ان کا ۱۱ جولائی کا کالم بھی ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف مغالطہ انگیزی کی نذر ہو گیا۔ آپ نے آج کے 'موضوع گفتگو' میں شکوہ کیا ہے کہ فیس بک پر بہت سے لوگ اپنے ٹوٹے پھوٹے قلم میز کی درازوں سے نکال کر انقلاب کی مخالفت میں ٹوٹ پڑے۔ کیوں نہ ٹوٹتے، وقت کی نزاکت یہی کہتی ہے کہ اپنے ہوں یا اغیار، زہر ہلاہل کو زہر ہلاہل ہی کہا جائے اگر اسے مصلحت میں قند قرار دیا جائے گا تو آنے والا وقت ملت کو اس کی مصلحت کوشی اور جانب داری  کے لیے کبھی معاف نہیں کرے گا۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف مدیر انقلاب نے اس تیسری قسط میں اگرچہ اس بار قسط نمبر نہیں لکھا لیکن یہ سلسلہ پہلی دو اقساط ہی کا تسلسل ہے۔ اس کالم میں ان کی بدحواسی صاف عیاں ہے آپ دیکھیں گے کہ آج کا اداریہ غیر مربوط تو ہے ہی، ساتھ ہی حسب سابق انہوں نے جگہ جگہ ٹھوکریں کھائی ہیں ۔ ہم ان کی باتوں پر انتہائی اختصار کے ساتھ تبصرہ کریں گے۔ ہمارامقصد ان کی  توہین یا دل آزاری کرنا نہیں ہے۔ لیکن ہم وہی کہیں گے جو حق ہے خواہ یہ کسی کو برا ہی کیوں نہ لگے۔ ان کے کالم کو اگر ہم مختصر اجزا میں تقسیم کرلیں تو بات سمجھنا آسان ہو جائے گی۔ تو شروع کرتے ہیں:
  1. لکھتے ہیں: اخباروں میں دارالعلوم دیوبند کا چار سال پرانا بیان ڈاکٹر ذاکر کی مذمت میں شائع کیا گیا ہے […] اب گالیاں دینے والوں کا رخ دارالعلوم دیوبند کی طرف ہوجائے گا۔ جب دلیل سے کام نہیں چلا تو فتووں کے سہارے کی ضرورت پڑ گئی! دارالعلوم کے جس فتوے کی آپ بات کرہے ہیں وہ مسلکی نوعیت کا ہے اور اس پر خود دارالعلوم کا بیان آیا ہے کہ ان کے فتووں کو ڈاکٹر ذاکر کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔ مسلکی فتوے کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنا کیا دور کی کوڑی نہیں ہے؟
  2. لکھتے ہیں: ہندوستانی مسلمانوں نے ایک بار پھر دانش مندی کا ثبوت دیتے ہوئے ایک بڑی سازش کو ناکام بنادیا کہ پہلے جانے پہچانے کسی چہرے کو نشانہ بنایا جائے اور جب سب اس کی حمایت میں اتر آئیں تو پورے ملک کے مسلمانوں کو دہشت گردی کا حامی اور ہندوؤں کا دشمن قرار دے دیا جائے۔ حیرت ہے! اسی جانب تو تمام دردمندان ملت آپ کی توجہ مبذول کرارہے تھے۔ لیکن آپ کا اپنا کردار اس سلسلے میں کیا رہا؟ آپ نے تو ایک جانے پہچانے چہرے کو دہشت گردی سے جوڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی!
  3. لکھتے ہیں: ایسے حالات میں ہمارے پاس دو ہی راستے تھے […] (خاموش رہ کر) تماشہ دیکھنا […] ( یا) سازش کو ناکام کرنے کے لیے دنیا کو بتانا کہ مسلمانوں کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمیں کہنا پڑے گا کہ افسوس آپ بھی اس سازش کا شکار ہو گئے۔ اگرچہ بزعم خود آپ نے مسلمانوں کا دفاع کیا۔ 
  4. لکھتے ہیں: جب ہم نے سادھوی پرگیہ، پروین توگڑیا، اشوک سنگھل، یوگی آدتیہ ناتھ، ساکھشی مہاراج، امت شاہ، سادھوی پراچی سے لے کر سنگھ پریوار کے ہر ایسے لیڈر کے خلاف لکھا جو ملک میں مذہبی تعصب پھیلا رہا تھا تب کسی نے ہم کو کسی کا ایجنٹ نہیں کہا؟ یہ بھی ایک ہی رہی۔ جانتے ہیں ان تمام لوگوں میں ایک مشترک بات کیا ہے؟ یہ تمام لوگ وہ ہیں جو یا تو دہشت گردی کے واقعات میں راست ملوث ہیں، یا پھر مذہبی نفرت انگیزی اور شر پسندی کے لیے بدنام ہیں۔ علاوہ ازیں یہ وہی لوگ ہیں جنہیں ہندوستان میں مسلمانوں کا وجود پسند نہیں۔ ان کا موازنہ ذاکر نائیک سے کرنا آپ کے نزدیک قرین انصاف ہے؟ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔ 
  5. لکھتے ہیں: (ہمارے خلاف لکھنے والے) کچھ لوگ ایسے بھی شامل ہیں جن کے سنگھ پریوار سے اتنے گہرے رشتے ہیں کہ سنگھ کے لیے اردو کا سارا کام وہی کرتے ہیں۔ ہم نہیں جانتے یہ کنایہ کس کی جانب ہے؟ لیکن پیشہ ورانہ طور پر سنگھ کے لیے کوئی کام کرنا ایک الگ بات ہے اور مفت میں سنگھ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا بالکل دوسری۔ یقیناً دونوں قبیح فعل ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ اول الذکرمیں تو کسی کے پاپی پیٹ کا سوال ہے ۔ آپ بتائیں آپ نے آخرالذکرکو، یعنی سنگھ کے ایجنڈے کو مفت میں کیوں آگے بڑھایا؟ ہم آپ سے حسن ظن رکھتے ہیں اس لیے ہم نہیں سمجھتے کہ آپ نے یہ کسی رتبے، صلے یا خوشنودی کے لیے کیا ہوگا۔ 
  6. لکھتے ہیں: ذاکر نائیک کی حمایت میں جن لوگوں نے فیس بک پر لکھا ان میں سے کئی نے دہشت گردی کی کھل کر ستائش کی اور اس کو جائز ٹھہرایا۔ (آگے کچھ متشدد افراد کے کمنٹس کو نقل کرتے ہیں۔) العوام کالانعام ۔ ہر طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اتنے سارے تبصروں میں کیا آپ کو کوئی تبصرہ معقول نہیں لگا؟ کیا تمام لوگوں نے متشدد تبصرے کیے تھے؟ 
  7. لکھتے ہیں: میں نے وہ ویڈیو دیکھا ہے جس میں ذاکر نائیک نے اسامہ بن لادن کے بارے کہا ہے کہ وہ امریکہ جیسے دہشت گرد کو دہشت میں مبتلا کررہا ہے اس لیے وہ اسامہ کے ساتھ ہیں […] ہاں یہ بات سچ ہے کہ اب انہوں نے داعش کی مخالفت میں کھل کر بیان دیا ہے۔ ہر چند کہ یہ ذاتی موقف کی بات ہے لیکن اطلاعاً عرض ہے کہ ذاکر نائیک نے اس ویڈیو کاا نکار کیا ہے اور کہا ہے کہ اسے forge کیا گیا ہے۔ انہوں نے اسامہ کے ساتھ ہونے کی بات نہیں کی تھی۔ یہ ان کی حالیہ جاری کی گئی وضاحتی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ویسے آپ تاریخ کیسے بھول گئے؟ یاد نہیں اسامہ بن لادن امریکہ کے لیے ایک زمانے میں ایجنٹ تھا ۔ بعد میں جب امریکہ کا الو سیدھا ہو گیا تو اس سے پیچھا چھڑانے کے لیے اپنے ہی ایجنٹ کو اس نے دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد قرار دے دیا۔ قطع نظر اس کے اسامہ نے نائین الیون کو انجام دیا یا نہیں اور امریکہ کے پاس اس کے کیا ثبوت ہیں ، یہ بات جگ ظاہر ہے کہ وار آن ٹیرر کے لیے مریکہ کو کوئی بہانہ چاہیے تھا اور اسامہ کے نام پر اس نے یہ کام آسانی سے انجام دے لیا۔ اسامہ کو تو امریکہ نے دہشت گرد قرار دیا تھا کیا کبھی اس نے ہندوستان پر بھی دہشت گردانہ کارروائی کی تھی؟اس بحث سے یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم اسامہ کی حمایت کررہے ہیں۔ خواہ کوئی بھی ہو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور میڈیا کی لَے میں لَے ملاکر کسی کو دہشت گرد گرداننا معروضیت اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کے منافی ہے۔ آپ جیسے صحافی کیسے اس دام میں آگئے؟
  8. لکھتے ہیں: (اس اعتراض کے جواب میں کہ انہوں نے مخالفین کے تبصروں کو اپنی فیس بک وال سے ڈیلیٹ کیوں کیا۔) میرے دس ہزار فیس بک فرینڈس اور چار ہازار فالوورز ہیں جن میں صرف پچاس ساٹھ افراد نے میری مخالفت کی […] میں نے انہیں بلاک کرکے کمنٹس کو ڈیلیٹ کرنا ہی مناسب سمجھا۔ یعنی آپ نے اپنے چودہ ہزار مداحوں کے حلقے کو تمام مخالف عناصر سے پاک کردیا۔ مبارک ہو۔ اب کوئی کرکے دکھائے تو مخالف کمنٹ!


شمسی صاحب آپ کامیاب ہوگئے



روزنامہ انقلاب کے مدیر شکیل شمسی کے مداحوں میں میں بھی شامل ہوں۔ ہر صبح چائے کی چسکیوں کے ساتھ ان کا اداریہ نہ صرف حالات حاضرہ سے باخبر کرتا ہے بلکہ ان پر ایک متوازن رائے بھی دیتا ہے۔ موصوف شیعہ سنی یکجہتی اور اتحاد ملت کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ ان کے کالم گہرے مطالعے اور سیاسی بصیرت کے حامل ہوتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اپنے روزنامے میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف ایک  دل آزار اداریہ رقم کیا ہے (ماخذ: روزنامہ انقلاب)۔ یہ بات ان کے مداحوں کے لیے کسی صدمے سے کم نہیں تھی۔ صدمہ اس لیے نہیں  تھا کہ انہوں نے ذاکر نائیک کے خلاف لکھا بلکہ ایسے وقت میں لکھا جب  تمام الیکٹرانک  اور پرنٹ میڈیا  نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف کمر کس لی ہے اور ایک طوفان بے تمیزی میں برپا کر رکھا ہے ۔   یہ حملہ بظاہر ڈاکٹر ذاکر کی ذات پر ہے لیکن ان کے نشانے پر تمام دعوتی اور دینی ادارے ہیں، اگرچہ ابھی ان کا نمبر آنا باقی ہے۔
شمسی صاحب کااداریہ کیا ہے جھوٹ اور بے بنیاد الزامات کا پلندہ ہے۔  پورا مضمون معروضیت سے خالی ہے۔ خیر ہم حسن ظن سے کام لیں گے۔ اخباری اداریوں میں اتنی جگہ نہیں ہوتی کہ الزامات اور دعووں کی دلیل میں ماخذ بیان کیے جاسکیں۔ تاہم شمسی صاحب نے ڈاکٹر ذاکر نائیک جیسی شخصیت پر جب بہتان طرازی کا ارادہ کیا تھا تو کم سے کم وہ اتنا تو کرہی سکتے تھے کہ اتنا اشارہ کردیتے کہ یہ باتیں انہیں آیا ان کے استعماری میڈیا کے دوستوں نے بتائیں یا خود انہوں نے براہ راست ڈاکٹر ذاکر نائک کی تقریروں  اور کتابوں سے استفادہ کیا۔ لیکن آخرالذکر سے استفادہ اگر وہ کرتے تو شاید ان کے مضمون کا رخ اور تیور وہ نہ ہوتا جو ہے۔ ان کی پیش کردہ کم و بیش تمام آراء وہی ہیں جو ان دنوں میڈیا ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف اگل رہا ہے۔ حتی کہ ان پر دہشت گردوں کی حمایت کا الزام بھی شمسی صاحب نے میڈیا سے اچک لیا ہے جس کی تردید خود ڈاکٹر ذاکر نائیک بھی کرچکے ہیں (ماخذ: یوٹیوب) ۔
شمسی صاحب کہتے ہیں  کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک ایک خاص مسلک کے ترجمان ہیں اور مسلمانوں کے درمیان مختلف فرقوں کے درمیان اختلافات کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ یہ بہتان ایک ایسے شخص کے بارے میں ہے جس نے اپنی پوری زندگی اتحاد امت اور دین حق کی سر بلندی کے لیے وقف کردی ہے۔ (ماخذ: یوٹیوب ویڈیو، اتحاد امت پر ملیشیا میں خطاب) حقیقتاً ڈاکٹر ذاکر نائیک اپنی تقریروں میں کسی بھی مخصوص فرقے کی ترجمانی نہیں کرتے بلکہ قرآن اور احادیث کی بات کرتے ہیں۔  اگر قرآن اور احادیث سے بعض فرقوں کے مزعومہ عقائد مجروح ہوتے ہوں تو ہوں۔ اگر یہ مسلکی افتراق کو ہوا دینا ہے تو ہاں ڈاکٹر ذاکر نائیک اس کے مرتکب ہیں، وہ کسی مسلک کی طرف نہیں بلاتے بلکہ خالص دین اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔
شمسی صاحب رقم طراز ہیں کہ آج ڈاکٹر ذاکر پر جو حملے ہو رہے ہیں ان کے لیے خود ذاکر نائیک ذمہ دار ہیں۔ غالباً شمسی صاحب نے اسلامی تاریخ نہیں پڑھی جو ایسی بہکی بہکی باتیں کررہے ہیں۔ ہاں ، داعیان اسلام اپنے اوپر آنے والی ابتلاء و آزمائش کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ لیکن کیا ان پر یہ مصائب اس بنا پر آتے ہیں کہ دعوتی مشن سے ان کا ذاتی مفاد وابستہ ہوتا ہے یا پھر اس پاداش میں کہ وہ اعلائے کلمۃاللہ کے لیے کھڑے ہوتے ہیں اور باطل قوتوں کو یہ بات ناپسند ہوتی ہے اور وہ طاغوت کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے سبب گرفتار مصیبت ہوتے ہیں؟
اپنے اداریے کی دوسری قسط  (ماخذ: سنڈے انقلاب) میں (جی ہاں، یہ اداریہ انہوں نے دو قسطوں میں لکھا ہے، گویا ایک قسط میں ان کی بھڑاس پوری طرح نہیں نکل پائی۔ ) شمسی صاحب  لکھتے ہیں کہ" میرےاس مضمون کی پہلی قسط پڑھ کر اردو کے کچھ صحافی، قلمکار اور ذاکر نائیک کے حامی میری پوسٹ پر ٹوٹ پڑے۔ لیکن نہ تو کوئی ذاتی ، مسلکی اور نظریاتی الزامات سے آگے بڑھ سکا اور نہ کوئی تردید کرسکا۔"
مزے کی بات یہ ہے کہ شمسی صاحب نے اپنے اوپر تنقید کرنے والوں پر تو یہ الزام لگایا ہے کہ ان میں سے کوئی نظریاتی و مسلکی الزامات سے آگے نہ بڑھ سکا اور نہ ان کی کسی بات کی تردید نہیں کرسکا لیکن خود ڈاکٹر ذاکر نائیک جیسے مبلغ اسلام پر نکتہ چینی کرتے ہوئے تمام معروضیت کو بالائے طاق رکھ دیا۔ حالانکہ اگر وہ آنکھیں کھول کر ان تبصروں کو ہی پڑھ لیتے جو ان کی فیس بک پر پوسٹ پر کیے گئے تھے تو انہیں ان میں اپنی باتوں کی مدلل تردید مل جاتی۔  لیکن اگر قارئین ان کے فیس بک وال پر جائیں گے تو حقیقت کھل جائے  گی کہ شمسی صاحب کتنے روادار واقع ہوئے ہیں۔ ان تمام تبصروں کو انہوں نے اپنی پوسٹ سے ہٹا دیا  ہے جو ان کے خلاف تھے اور صرف انہیں کو باقی رہنے دیا جو ان کی تائید میں ہیں۔
بلادلیل شمسی صاحب فرماتے ہیں کہ ذاکر نائیک میں فکر صالح نہیں ہے (اگرچہ یہ ایک ذاتی نوعیت کا معاملہ ہے جس کا صحیح علم اللہ رب العزت ہی کو ہے ، شمسی صاحب جیسے منجھے ہوئے قلمکار کی طرف سے یہ بات عجیب ہی نہیں بلکہ بچکانہ بھی ہے)۔  وہ ان کے 'مسلمانوں کو دہشت گرد ہونا چاہیے ' والے تبصرے کو بھی اسی انداز میں سیاق و سباق سے ہٹاکر پیش کرتے ہیں جس طرح ان کے سنگھی یار لوگوں اور میڈیا نے کیا ہے۔ اس کی تردید ڈاکٹر ذاکر نائک کی ویڈیو میں کی گئی ہے کہ ان کا یہ جملہ سیاق  سے ہٹا کر پیش کیا جارہا ہے جس میں انہوں نے مسلمانوں کو غیر سماجی عناصر کے خلاف  سخت گیر رویہ اپنانے کی ہدایت کی تھی۔ اگرا یسا کہنا جرم ہے تو شمسی صاحب اقبال کے اس شعر کو کس زمرے میں رکھیں گے:
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل و ہو تو فولاد ہے مومن
انہوں نے ڈاکٹر ذاکر نائیک پر مختلف فرقوں کے درمیان اختلافات کو بڑھاوا دینے کا الزام بھی عائد کیا ہے لیکن دلیل ندارد۔ حالانکہ ذاکر نائیک کی متعدد ویڈیوز انٹرنیٹ پر موجود ہیں جن میں وہ اتحاد اسلام کی دعوت دیتے ہیں اور مسلکی اختلافات سے گریز کرتے ہیں۔ تاہم جہاں بات قرآن و حدیث سے متصادم ہوتی ہے وہ حق بات کہنے سے کبھی نہیں چوکتے۔ ان کی اسی صفت سے اہل بدعت نالاں ہیں اور موقع پرستوں کے ہاتھ آخر ایک موقع لگ ہی گیا ہے چنانچہ وہ کھل کر ڈاکٹر ذاکر کی مخالفت میں آگئے ہیں۔ کیا سنگھی، کیا کارپوریٹ میڈیا اور کیا ملت فروش یہ تمام ایک داعی دین کے مقابلے میں متحد و صف آرا ہو گئے ہیں۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک کی آڑ میں سنگھی استعماری میڈیا  اسلام کو بدنام کرنے کا کھیل کھیل رہا ہے۔ یوپی میں انتخابات سرپر ہیں۔ مسلم ووٹ کی تقسیم اور فسادات کروانا  فرقہ پرست پارٹیوں کا آزمودہ انتخابی حربہ ہے جسے وہ ان حالات میں خوب خوب کیش کریں گی۔ کنورژن کے خلاف تو برسراقتدار پارٹی  کا موقف جگ ظاہر ہے اور وہ  اور پورا سنگھ پریوار تبدیلی مذہب کے خلاف قانون سازی کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹرذاکر کی دعوتی سرگرمیاں بھی انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔ ڈھاکہ حملوں کے پس منظر میں بنگلہ دیشی میڈیا کی آڑ میں آخر انہیں ایک سنہری موقع مل گیا ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک ، ان کے ادارے آئی آر ایف اور پیس ٹی وی کے خلاف شکنجہ کسا جاسکے۔ حالانکہ بنگلہ دیشی اخبار ڈیلی اسٹار نے اپنی پہلی رپورٹوں کی تردید کردی ہے جس میں حملہ آوروں کے ڈاکٹر ذاکر نائیک سے متاثر ہونے کی بات کہی گئی تھی۔ لیکن جھوٹ اور بہتان پر پرورش پانے والا ہندوستانی میڈیا اپنا طوفان کہاں روکنے والا ہے۔ یہ دلیل بھی کہ حملہ آور ڈاکٹر ذاکر نائیک کا فین تھا کتنی بودی ہے۔ کیا بابری مسجد کو شہید کرنے والے لال کرشن ایڈوانی کے فین نہیں تھے؟ کیا مہاتما گاندھی کو قتل کرنے والا آر ایس ایس سے متاثر نہیں تھا؟ کیا آئین اسٹائین کے فارمولوں سے انسپائر ہوکر پہلا ایٹم بم نہیں بنایا گیا تھا جس کے ذریعے لاکھوں بے گناہ جاپانیوں کی جان لی گئی؟ تو کیا اس بنیاد پر یہ تمام ادارے اور افراد بھی قابل گردن زدنی نہیں قرار پاتے؟ محض کسی کا فین ہونے کی بنیاد پر میڈیا ٹرائل اور پوری حکومتی مشنری کا حرکت میں آجانا ایسا خطرناک رجحان ہے جس کی زد سے کوئی نہیں بچ سکتا۔
 شکیل شمسی اگر سطحیت سے اٹھ کر اس زاویے سے بھی سوچتے تو شاید ان کا تعصب انہیں ڈاکٹر ذاکر نائیک پر ہرزہ سرائی کرنے سے باز رکھتا۔ لیکن افسوس عصبیت اور جانب داری اچھے اچھوں کی عقل خبط کردیتی ہے۔
شمسی صاحب کے بعض مداحوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے انہیں پرخلوص انداز میں درخواست کی تھی انہوں نے جو لکھا ہے وہ مناسب نہیں خصوصاً ان حالات میں جب پورا استعماری میڈیا، سنگھ پریوار اور حکومت ڈاکٹر ذاکر نائیک کے پیچھے پڑ گئے ہیں،  اس اداریے کی ضرورت کیا تھی؟ کیا یہ موقع پرستی نہیں ہے؟
ہم نہیں جانتے شمسی صاحب ، آپ کے اوپر کیا دباؤ رہا  ہو گا یا آپ نے کس مصلحت کے تحت یہ اداریہ رقم کیا ہے؟  یہ "اوپر والوں" کو خوش کرنے کی کوشش تھی  یا آپ محض اس طوفان بے تمیزی میں جذباتی طور پر  بہہ گئے!  لیکن ہاں ۔  یہ بات طے ہے کہ آپ جیت گئے۔ آپ کے اس اداریے سے "اوپر والے" تو خوش ہوئے ہی ہوں گے، اس سے کارپوریٹ میڈیا کی حمایت بھی ہوگئی، سنگھی ایجنڈے کو بھی آگے بڑھانے میں مدد ملی اور ملت اسلامیہ کو مسلکی بنیاد پر تقسیم کرنے کی جو مذموم کوششیں کی جا رہی ہیں انہیں بھی تقویت ملی۔  شمسی صاحب ، یقیناً آپ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگئے۔ آپ نے  یہ اداریے لکھ کر ان تمام اہدافات کو حاصل کرلیا۔ ایسے نازک وقت میں جب ملت  کے سپوتوں پر ہر چہار جانب سے یلغار ہورہی ہو، آپ کے ان مضامین کو  بدبختانہ اور موقع پرستی نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟

اسلام اور آنٹرپرینیورشپ


آنٹرپرینیورشپ ان عوامل میں سے ایک ہے جو کسی فرد بلکہ ملک کی معاشی صورت حال کو تبدیل کرسکتی ہے۔ اس کے ذریعے بہت سے افراد برسر روزگار ہو سکتے ہیں اوربہت سے افراد کو روزگار مہیا کیا جا سکتا ہے ۔ یہی سبب ہے کہ اسلام میں بیع مبرور ، کاروبار، تجارت یا آنٹرپرینیورشپ پر بہت زور دیا گیا ہے ۔  

اسلاموفوبیا: محرکات ، اثرات اور تدارک



مئی ۲۰۱۵: ممبئی میں ایک ایم بی اے گریجوئیٹ ذیشان علی خان کو ایک کمپنی نے یہ کہہ کر نوکری دینے سے انکار کر دیا کہ “وہ صرف غیر مسلم امیدواروں کو ہی ملازمت پر رکھتے ہیں۔”
۲۵ اگست: منگلور میں ایک لڑکے شاکر کو مبینہ طور پر بجرنگ دل کے کارکنوں نے کھمبے سے باندھ کر بے رحمی سے پیٹا اور اس کے کپڑے تار تار کردیے۔ اس کا قصور یہ تھا کہ اس نے ایک غیر مسلم لڑکی سے بات کی تھی۔
۳۱ اگست: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے جشن طلائی کے موقع پر نائب صدر جمہوریہ محمد حامد انصاری کے خطاب پر دائیں بازوں کی تنظیموں نے ہنگامہ برپا کردیا۔ جناب انصاری نے اپنے خطاب میں سچر کمیٹی رپورٹ کا حوالہ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلمانوں کی سماجی معاشی حالت ملک کی پسماندہ ترین درج فہرست ذاتوں اور قبائل سے بھی ابتر ہے۔ ان کی بہبود کے لیے سرکاری سطح پر اثباتی اقدام، فیصلہ سازی اور حکومتی مراعات میں مساوی حصہ داری کے علاوہ تعلیم اور ایمپاورمنٹ کے لیے بھی مساعی کی ضرورت ہے جس میں ملی تنظیموں کو بھی اپنا حصہ ادا کرنا ہوگا۔ وی ایچ پی اور سنگھ پریوار نائب صدر کی باتوں پر سخت چیں بہ جبیں ہیں اور ان سے استعفی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
۲ ستمبر: دہلی کی میونسپل کونسل نے یہاں واقع بمشکل نصف کلومیٹر طویل اورنگ زیب روڈ کا نام تبدیل کرکے عبدالکلام روڈ رکھ دیا ہے۔ اس سے پہلے بھی اس روڈ کا نام تبدیل کرنے کی کئی بار کوشش کی گئی تھی۔ دسمبر ۲۰۱۴میں وزارت داخلہ کے ایک نوٹس کے مطابق تاریخی شخصیات کے نام پر عمارات اور سڑکوں کا نام تبدیل کرنا قانونی پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔
۳ ستمبر: مردم شماری کے ڈیموگرافک اعداد و شمار کے منظر عام پر آتے ہی سنگھ پریوار اینڈ کمپنی نے یہ تأثر دینا شروع کردیا گویا مسلمانوں کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کے پیروؤں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہی نہیں اور ایک مخصوص مذہب کی بقا کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ پروین توگڑیا اور ساکشی مہاراج نے اسے نہ صرف “آبادی کا جہاد” قرار دیابلکہ دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے والے مسلمانوں کو قرار واقعی سزا دلوانے کی سفارش کر ڈالی اور انہیں روزگار، ریزرویشن اور دیگر سرکاری مراعات سے بھی محروم کرنے کی اپیل کی ہے۔ توگڑیا کے مطابق “مسلمانوں کی منصوبہ بند شرح افزائش ایک سوچی سمجھی سازش ہے اور اگر ہم اس آبادی کے جہاد کے خلاف نہ کھڑے ہوئے تو بھارت جلد ہی اسلامی ریاست میں تبدیل ہو جائے گا۔” لیکن توگڑیا جی اعداد و شمار سے یہ تجزیہ نہیں کر پائے کہ اگرچہ مسلمانوں کی شرح نمو ہندوؤں سے قدرے بہتر رہی لیکن یہ بھی واقعہ ہے کہ مسلمانوں کی شرح نمو ۱۹۵۱ کے بعد کم ترین سطح پر تھی۔
***
یہ کیلنڈر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کاہے جس کے طرز حکومت میں سیکولر اقدار اور مذہبی آزادی طرۂ امتیاز تصور کی جاتی ہیں۔ جہاں پر مسلمانوں کی آبادی، انڈونیشیا کے بعد، پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ جس ملک نے گوتم، نانک اور گاندھی جیسے مایہ ناز سپوت پیدا کیے جنہوں نے دنیا کو وحدت، اخوت اور امن کا درس دیا۔ محبت اور آشتی کے اس گہوارے میں متذکرہ بالہ واقعات کسی سانحہ سے کم نہیں۔ لیکن افسوس یہ سانحات ہندوستان کے روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔
آئے دن فرقہ ورانہ فسادات، جلتے ہوئے مکانات، جھلستی ہوئی لاشیں، ماتم کناں عورتیں اور بچے، شہید ہونے والی مساجد، مسلمانوں کی عام بیچارگی، افلاس اور بے روزگاری، مسلم نوجوانوں پر پولیس کی بربریت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ، دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات، بے گناہوں کی تعزیر کا لامتناہی سلسلہ، اخبار، ٹیلی وژن اور الیکٹرانک اور سوشل میڈیا میں اسلام اور اہل اسلام سے متنفر کرنے والے پروگرام اور بیانات، ملت کو تعلیمی اور معاشی سطح پر پسماندہ رکھنے کا منظم منصوبہ، ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی جانب سے مسلمانوں کو گھر فروخت نہ کرنے کا غیر محررہ اصول پھر خواہ وہ کوئی مشہور ہستی ہی کیوں نہ ہو، سیاست، فوج، سرکاری نوکریوں اور زندگی کے تمام شعبوں میں آبادی کے تناسب سے انتہائی کم نمائندگی—یہ تمام باتیں کسی نہ کسی شکل میں اس سماجی عارضہ کا مظہر ہیں جسے اسلاموفوبیا کہتے ہیں۔
عالمی سطح پر صورت حال اور بھی خراب ہے۔ فلسطین، چیچنیا، کوسوو، میانمار، چین، عراق، افغانستان، لیبیا، شام، سوڈان وغیرہ پر استعماری قوتوں کا جبر؛ فرانس، بیلجیم اور دیگر یوروپین ممالک میں حجاب پر پابندی؛ سوئٹزرلینڈ میں ریفرینڈم کے ذریعے مساجد کے میناروں پر پابندی؛ چین میں روزہ رکھنے پر حکم امتناعی، ڈنمارک اور فرانس میں پیغمبر اسلام کے دل آزار اور اہانت آمیز خاکوں کی اشاعت؛ امریکہ میں آئے دن مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے تشدد اور امتیاز کے واقعات؛ اسلام مخالف لٹریچر اور قلم کاروں کا ادبی انعامات سے سر فراز کیا جانا اور انہیں آزادیٔ اظہار کا چیمپین قرار دینا؛ ان تمام باتوں کے پس پردہ اسلام دشمنی اور مسلمانوں کی دل آزاری کا جذبہ کار فرما ہے۔
اسلاموفوبیا کیا ہے؟
اسلامو فوبیا کی اصطلاح کا استعمال سب سے پہلے برطانیہ کے ایک ادارے رنیمیڈ ٹرسٹ نے کیا۔ ۱۹۹۷ میں اس ادارے نے ایک رپورٹ شائع کی جس کا عنوان تھا: اسلامو فوبیا سب کے لیے ایک چیلنج۔ رپورٹ میں اسلاموفوبیا کی تعریف مسلمانوں کے تئیں ایک ایسے غیر منطقی رویے اور بے جا ناپسندیدگی کے جذبے کے طور پر کی گئی ہے جس کے نتیجے میں ان سے تعصب، امتیاز اور عدم شمولیت کے جذبات کو فروغ ملتا ہے۔ یہ معاشی، معاشرتی اور عوامی زندگی کا رویہ ہے اور اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے ذریعے اسلام کے تعلق سے یہ رائے قائم کر لی جاتی ہے کہ دوسرے گروہوں اور ثقافتوں کے ساتھ اسلام کی کوئی قدر مشترک نہیں ہے اور یہ کہ اسلام ایک مبنی بر تشدد سیاسی نظریہ ہے۔
رنیمیڈ ٹرسٹ کے مطابق اسلاموفوبیاکوئی ایک خوف نہیں بلکہ بہت سے دیگر خوفوں کا مجموعہ ہے۔ متذکرہ رپورٹ کے مدیر رچرڈسن رابنسن کے مطابق “اسلاموفوبیا ایک سنگین ذہنی کیفیت ہے جس کے ذریعے ایک مخصوص گروہ کو اس کا نشانہ بنایا جاتا ہے جب کہ نشانہ بننے والے دفاعی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔ جب خود اس رویہ کا حامل فرد اسلام اور مسلمانوں کے موقف کو سمجھنے کی پوری ذمہ داری سے خود کو بری سمجھتا ہے اور اپنی رائے میں تبدیلی کو غیر ضروری قرار دیتا ہے۔ اسلاموفوبیا تمام مذاہب سے نفرت کرنے والے افراد اور اسلام کے ماننے والوں سے معاندانہ رویہ رکھنے والے افراد میں تمیز کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔” رچرڈسن کے مطابق اسلاموفوبیا کی اصطلاح کی موزوں تعریف متعین کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ (رچرڈسن رابنسن - Islamophobia or anti-Muslim racism or what)
رنیمیڈ ٹرسٹ نے اسلام کے تعلق سے “کھلے” اور “بند” ۸ نظریات کا موازنہ کیا ہے جنہیں اسلاموفوبیا کے نفسیاتی رویہ کی علامت قرار دیاہے۔ چند کا ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے:

  • یہ ماننا کہ اسلام ایک یک سنگی (monolithic)، یکسانیت کا حامل اور جامد مذہب ہے اور کسی قسم کی تبدیلی اور نئے نظریات کو قبول نہیں کرتا۔ 
  • یہ سمجھنا کہ اسلام علیحدگی پسند اور اجنبی (other) ہے، دوسری ثقافتوں کے ساتھ اس کی کوئی قدر مشترک نہیں ہے اور نہ یہ خود دوسروں سے کوئی اثر قبول کرتا ہے۔
  • اسلام کو مغرب سے کم تر سمجھنا، اسے بربریت. و نامعقولیت کا حامل قرار دینا اور یہ ماننا کہ یہ ماقبل تہذیب (primitive) مذہب ہے اور صنفی امتیاز روا رکھتا ہے۔
  • یہ ادراک کہ اسلام تشدد پسند، خطرناک مذہب ہے اور دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے۔ نیز دیگر تہذیبوں کے ساتھ اس کی ازلی آویزش ہے۔
  • اسلام سے عناد کو مسلمانوں کے خلاف امتیازی رویے اور انہیں معاشرہ سے الگ تھلگ رکھنے کے جواز کے طور پر پیش کرنا۔
  • مسلم مخالف رویوں کو فطری اور معمول کے مطابق قرار دینا۔

مذکورہ بند نظریات کا موازنہ کھلے نظریات کے ساتھ کیا گیا جس کی بنیاد اسلام کے احترام، جائز اختلافات، افہام و تفہیم اور تعمیری تنقید پر ہے۔
یوروپ میں جب نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوا اور علمی روشن خیالی کی فضا استوار ہوئی تو علمی حلقوں میں چرچ سے عام بیزاری کی فضا پیدا ہو گئی۔ جدت پسندی اور روشن خیالی کے زیر اثر خود عیسائت کا وجود خطرے میں پڑنے لگا۔۔ تھامس ہینک کے مطابق صلیبی جنگوں میں عیسائیت مسلمانوں کے خلاف برسرپیکار تھی تاہم جب نشاۃثانیہ کے دور میں عیسائیت کی نئی شناخت قائم ہوئی تو اسلام دشمنی دب گئی لیکن تب بھی صلیبی ذہن زندہ رہا۔ ۱۴۵۳ میں جب عثمانیوں نے قسطنطنیہ فتح کرلیا تو اسلام سے عناد کا جذبہ پھر ابھارا گیا۔ مسلمانوں کے خلاف صلیبی ذہنیت کی معاندانہ روش ختم ہونے کے بجائے یوروپ کی سیاسی اور علمی سرگرمیاں  ہمیشہ بیدار رہیں ۔ یہی وہ سیاسی عناد اور مخالفت ہے جو ہمارے دور میں بھی فعال اور زندہ ہے ۔ ایڈورڈ سعید کے مطابق اسلام اور عالم عرب سے مخالفت مغربی ذہن کا بنیادی عنصر رہا ہے۔ اسلام کے خلاف نفرت کے مشترکہ جذبات سے ہی ان میں باہمی اتحاد اور شناخت کا جذبہ پیدا ہوا۔
۹/۱۱ کا امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا ۔ اس حملے کو فوری طور پر مسلمانوں سے جوڑ دیا گیا۔  جارج بش کا یہ اعلان کرنا کہ ہم صلیبی جنگ کا آغاز کریں گے، دراصل ان عزائم اظہار تھا جن کے لیے صلیبی اور صیہونی تحریکیں عرصہ دراز سے دنیا کو اسلام کے خلاف رائے بنانے کی کوشش میں مصروف تھیں۔ مسلسل دنیا کی ذہن سازی اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کی کوششیں بالآخر بارآور ہوئیں۔ مسلمانوں پر جنگ مسلط کردی گئی ۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کو خونخوار، دہشت پسند، اور امن عالم کے لیے خطرہ کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔ جب کسی شے کو خوف ناک بنا کر پیش کیا جائے گا تو یقیناً اس کا خوف دل میں بیٹھ جائے گا۔ امریکی مصنف ناتھن لین کے مطابق امریکہ میں اسلاموفوبیا ایک لاکھوں ڈالر کی انڈسٹری کی طرح ابھرا جس سے امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کے سیاسی و معاشی مفادات وابستہ ہیں۔
ہنٹنگٹن کے مطابق “مغرب کے لیے اصل مسئلہ اسلامی بنیاد پرستی کا نہیں بلکہ خود اسلام کا ہے جو ایک اجنبی تہذیب ہے۔” اس کے مطابق مسلمان کبھی بھی مغربی تہذیب میں جذب نہیں ہو سکتے۔ امریکی قدامت پسند ارونگ کرسٹول لکھتا ہے کہ “اشتراکیت کے بعد مغرب کو ایک ایسے دشمن کی ضرورت ہے جس کے نام پر وہ اس انحطاط کو روک سکے جو لبرل ازم سے پیدا ہو رہا ہے۔" مغرب کے لیے اسلام ہی وہ دشمن ہے ، جو نہ صرف اس کا تہذیبی حریف ہے بلکہ سیاست ، معاشرت اور معیشت کا متبادل نظام رکھتا ہے۔
کسی بھی ملک میں اظہار رائے کی بےلگام آزادی کی اجازت نہیں ہے۔ کوئی بھی ملک ہتک عزت، دشنام طرازی، اہانت، فحش کلامی اور نفرت پھیلانے کی آزادی نہیں دیتا اور اس کے لیے قوانین موجود ہیں۔ یوروپی معاشرہ میں آزادیٔ رائے کا حق نا قابل تنسیخ ہے لیکن اس کے بھی حدود مقرر ہیں اور ان کے تجاوز کرنے پر قانونی چارہ جوئی کی جاسکتی ہے۔ ماضی میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ یوروپین ممالک مثلاً جرمنی، فرانس، اسپین، ہالینڈ، آسٹریا، بیلجیم وغیرہ میں دوسری جنگ عظیم کے موقع پر یہودیوں کے قتل عام (holocaust) کے خلاف لکھنا ،اس کی تردید کرنا اور اس کی تفصیلات شائع کرنا جرم ہے۔ ہولوکاسٹ کی تردید کرنے والے عالمی شہرت یافتہ مصنف ارنسٹ زنڈل (Ernst Zündel) کو ۲۰۰۵ میں کینیڈا سے نکال دیا گیا تھا۔ جرمنی میں اس پر 14 الزامات عائد کیے گئے اور 5 برس کی قید کی سزا سنائی گئی. برطانوی مورخ ڈیوڈ ارونگ کو ۲۰۰۶ میں آسٹریا کی عدالت نے دوسری جنگ عظیم کی تاریخ لکھنے کی پاداش میں ۳ سال کی قید کی سزا سنائی۔ برطانوی عدالت نے ایک پادری کو ۱۲۰۰۰ پونڈ کا جرمانہ عائد کیا تھا کیونکہ اس نے ہولوکاسٹ کا انکار کیا تھا۔ دوسری طرف اسلام اور مسلمانوں کی خلاف لکھنا اور ان کی ہرزہ سرائی کرنا نیز رسول اللہ ﷺ کے توہین آمیز خاکے شائع کرنا آزادیٔ رائے کے نام بلا خوف تعزیر انجام دیے جاتے ہیں۔ ناقدین نے مغرب کے اس دوہرے معیار کی نشان دہی کی ہے کہ ایک طرف تو یہ ممالک یہودیت اور عیسائیت کے تحفظ کے قانون بناتے ہیں اور دوسری طرف اسلام کے خلاف دشنام طرازی پر خاموش رہتے ہیں۔
ہندوستان میں مسلمانوں کو ووٹ بینک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان سے استحصال سے نجات، ترقی ، انصاف اور حکومتی مراعات میں حصہ کے نام پر ووٹ بٹورے جاتے ہیں۔ لیکن جب حکومتیں اپنے وعدے پورے کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو مسلمانوں کی منہ بھرائی کے نام پر ان کا ہاتھ روک دیا جاتا ہے۔ اسلاموفوبیا بھی انتخاب میں کامیاب ہونے کے لیے ایک کارگر نسخہ ثابت ہوتا ہے۔ سادھوی نرنجن جیوتی، ورون گاندھی، ساکشی مہاراج ، یوگی آدتیہ ناتھ اور نہ جانے کتنے ہی نیتاؤں نے اس نسخے کا استعمال انتخابات کی کامیابی کے لیے کیا ہے۔ سرکاری اور نجی ملازمتوں میں مسلمانوں سے تعصب اور امتیاز کا سلوک نئی بات نہیں ہے۔ خود سرکاری طور پر کمیشن کی گئی سچر کمیٹی رپورٹ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ امتیاز کیا جاتا ہے۔ سچر کمیٹی کے مطابق سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا تناسب جس ریاست میں سب سے زیادہ ( 11.2فی صد) وہ آسام ہے جو ریاست کی مسلم آبادی30.9 ) فی صد) کے نصف سے بھی کم ہے۔ مغربی بنگال جہاں ایک عرصہ تک کمیونسٹوں کی حکومت رہی ہے جو ہمیشہ مساویانہ معاشرے کا راگ الاپتے رہتے ہیں وہاں پر مسلمانوں کا سرکاری ملازمت میں حصہ محض 4.2 فی صد ہے۔ سچر کمیٹی کے اس نتیجے کا محض حوالہ دینا کہ مسلمان درج فہرست ذاتوں اور قبائل سے بھی پسماندہ ہیں، نائب صدر جمہوریہ جیسی اہم شخصیت کے لیے قابل اعتراض ٹھہرا اور ان پر ہر چہار جانب سے تنقیدوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ گویا مسلمانوں کے حقوق کی بات کرنا بھی اب گوارا نہیں کیا جائے گا خواہ بولنے والا اس ملک کا صدر یا نائب صدرہی کیوں نہ ہو۔ ہندوستان میں اسلاموفوبیا اس مرحلے میں ہے جسے دانشوروں نے تکویری ماڈل (circular model)سے تعبیر کیا ہے۔ جب اسلاموفوبیا کے اثرات سے ملک میں مسلمانوں کی حالت تشویشناک ہو جاتی ہے تو حکومت کچھ تدابیر اور منصوبے اختیار کرتی ہے (بعض اوقات منصوبے بھی سیاسی بے عملی اور تنقید کے سبب ٹھنڈے بستے میں چلے جاتے ہیں)، کچھ نئی ہدایات جاری کرتی ہے ۔ اور جب ان کی بنیاد پر مسلمانوں کی حالت میں بہتری کی کچھ صورت پیدا ہونے کی سبیل نظر آتی ہے تو اسلاموفوبیا کو مسلمانوں کی منہ بھرائی کے نام پر استعمال کیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہتا ہے۔
یہ بات عیاں ہے کہ ہندوستانی میڈیا پر ایسے لوگوں کا تسلط ہے جو اسلاموفوبیا کو خوب استعمال کرنا جانتے ہیں۔ گذشتہ عشرے میں پرنٹ اور الیکٹرانک  میڈیا کو خاصا فروغ ملا ۔ خبروں کے تقریباً ۴۰۰ چینل وجود میں آئے۔ ان میں سے معدودے چند نام نہاد مین اسٹریم چینل مسلمانوں اور اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی پر کمر بستہ ہیں۔ ان کے نزدیک اسلام اور مسلمانوں کی ایک لگی بندھی تصویر ہے ، وہ یہ کہ اسلام وحشیانہ اور جامد مذہب ہے، غیر منظقی ہےفرسودہ ہے، ترقی کا دشمن ہے۔ مسلمان عام طور پر دہشت پسند، جنس گزیدہ، غلیظ اور دقیانوس ہوتے ہیں، وہ خواتین کو پردے کی قید میں رکھتے ہیں، ہر مسلمان کی ایک سے زائد بیویاں ہوتی ہیں، طلاق ثلاثی کی تلوار ہر مسلمان عورت پر لٹکتی رہتی ہے۔مدارس میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے، دنیا میں جہاں کہیں مسلمان اگر اپنے حقوق کے لیے بھی برسرپیکار ہیں تو وہ دہشت گردی کی علامت ہیں۔ قرآن میں تشدد کی تعلیم دی گئی ہے، اسلام تلوار سے پھیلا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ القاعدہ، انڈین مجاہدین، سیمی، حرکت الجہادالاسلامی، آئی ایس آئی، جیش محمد، لشکر طیبہ، حزب التحریر، داعش اور نہ جانے کتنی ہی حقیقی یا موہوم تنظیموں پر نا معلوم جگہوں پر تیار کی گئیں ڈاکیومنٹریز دکھائی جاتی ہیں اور ان کی حرکتوں کو تمام عالم اسلام اور مسلمانوں سے جوڑ کر دکھایا جاتا ہے۔ مسلم سماجی مسائل پر مباحث یا تو شاذ ہی ہوتے ہیں یا پھر غلط فہمیوں کو مزید ہوا دینے کے لیے انہیں بلا موقعہ و محل پیش کیا جاتا ہے۔ ایسے مباحث میں مسلم نقطہ نظر کی وضاحت کے لیے ایسے لوگوں کو بلایا جاتا ہے جو متعلقہ موضوع کے بارے میں مطالعہ نہیں رکھتے یا پھر اس طریقے سے دلائل پیش کرتے ہیں کہ اسلام کی جگ ہنسائی کا سبب بن جاتے ہیں۔ اس پر مستزاد پروگرام کا اینکر اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ متوازن نقطہ نظر پیش کرنے والے نہ بول پائیں۔ دہشت گردی کے ہر واقعہ کا میڈیا ٹرائل ہوتا ہے اور میڈیا ہی فیصلہ کر دیتا ہے کہ یہ کس تنظیم کا کام ہے۔ فسادات کے موقع پرمیڈیا کا عدم توازن آشکارہو جاتا ہے۔ مسلمانوں پر جبر و ظلم کے واقعات پر کوریج شاذ ہی دیا جاتا ہے۔
بعض ٹی وی چینل اور صحافی اس سے مستثنٰی بھی ہیں۔ گجرات اور مظفر نگر کا سچ ایسے ہی صداقت پسند صحافیوں اور سماجی کارکنوں کا رہین منت ہے، جن میں کلدیپ نیر، آشیش کھیتان، شوما چودھری، سدھارتھ وردھراجن، سوامی اگنی ویش، ہرش مندر، اروندھتی رائے، رویش کمار، راجدیپ ساردیسائی اور انہیں جیسے بے شمار صحافی اور سماجی کارکنان کے نام قابل ذکر ہیں جنہوں نے پیشے کی صداقت اور معروضیت کو حرزجان بنایا ہے۔ حقیقیت تو یہ ہے کہ حکمران طبقہ کو اپنی من مانی کرنے سے روکنے میں میڈیا کا یہی طبقہ پیش پیش ہے۔
حل کی تدابیر:
اسلاموفوبیا کے عفریت نے گذشتہ عشرے میں پوری دنیا کو اپنے پنجہ استبداد میں دبوچ رکھا ہے ۔ یوں تو حق و باطل کے درمیان آویزش ازل سے ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ حق کے خلاف باطل کی ریشہ دوانیوں کا سلسلہ یوں ہی تا قیامت جاری رہے گا۔صدر اسلام میں بھی یہ فوبیا موجود تھا جب دارالندوہ میں مکہ کے سردار سر جوڑ کر بیٹھتے تھے کہ کس طرح اللہ کے رسول ﷺ اور اسلام کو بدنام کیا جائے اور اس کی اشاعت کو روکا جائے۔ وقت کے رسول کو شاعر اور کاہن تک کہا گیا اور عرب کے قبیلوں میں یہ بات پھیلائی گئی کہ مکہ میں ایک جادوگر ہے جو اس کے زیر اثر آجاتا ہے وہ اپنے آبائی دین کا نہیں رہتا اور اپنے خاندان سے کٹ کر اسی کا ہو رہتا ہے۔ اس کے پاس ایسی چیز ہے جو ماں، باپ، میاں ، بیوی اور بھائیوں کے درمیان تفرقہ پیدا کر دیتی ہے۔ آج کے تناظر میں یوروپی اور امریکی اقوام اسلام کا ہوا کھڑا کر کے یہ کہہ رہی ہیں کہ اگر اسلامی نظام آگیا تو جمہوریت، آزادی اور تہذیب حاضر کی ساری چمک دمک جاتی رہے گی۔
ظاہر ہے اس پروپیگنڈا کا واحد حل وہی ہے جو صدر اول میں تھا وہ ہے اسلام کی دعوت اور اسلام کے تعلق سے غلط فہمیوں کا ازالہ۔ اسلام کے خلاف تمام نفسیاتی خدشوں کا تدارک خود مسلمانوں کے اپنے عمل میں مضمر ہے۔ مشتعل ہونے اور جارحیت کا جواب جارحیت سے دینے میں نہ صرف اغیار کے پروپیگنڈے کو تقویت ملتی ہے بلکہ اس سے خود اسلام کو زک پہنچتی ہے۔
لہٰذا مسئلہ کے حل کے لیے ہمیں ملی مسائل کے حل کی کوشش کرنی ہوگی۔ مسلکی اختلافات اپنی جگہ، لیکن معاملات زندگی اور مشترکہ مسائل کے سلسلہ میں تو مسلمان ایک دوسرے کے معین بنیں۔ سیاسی بیداری، تعلیمی ترقی، مسلمانوں کا معاشی استحکام اس سلسلے کے اہم کام ہیں جن کے لیے ہمارے دانشوروں کو، صرف علما کو نہیں بلکہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے اہل علم اور پروفیشنلز کو، آگے آنا ہوگا۔
خارجی چیلنجوں میں سب سے بڑا چیلنج میڈیا کا ہے۔ میڈیا پر گہری نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ہمیں ایسے افراد کی تیاری کرنی ہوگی جو میڈیا کے پروپیگنڈا کا فوری اور شافی جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ مسلمانوں کو حتی الوسع اپنے اخبارات نہ صرف اردو میں بلکہ انگریزی اور دیگر علاقائی زبانوں میں شائع کرنے ہوں گے۔ میڈیا میں سیکولر ذہن کے افراد سے گہرا ربط ضبط پیدا کرنا ہوگا اور ان سے اس چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لیے انسانی بنیادوں پر تعاون لینا ہوگا۔ اسلاموفوبیا کے واقعات سے مشتعل ہونے کے بجائے ان پر مناسب قانونی چارہ جوئی کی راہ تلاش کرنی ہوگی اور اس کام کے لیے دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کا تعاون بھی لینا ہوگا۔
اس کے علاوہ اسلام کی ان تعلیمات کو عام کرنا ہوگا جو موجودہ مسائل کا حل پیش کرتی ہیں۔ مثلاً خاندانی نظام کا بکھرتا ہوا شیرازہ، انسانی حقوق، اسلام کا تصور عدل، تصور رحمت، ماحولیات کے تعلق سے اسلام کی تعلیمات وغیرہ۔ دور حاضر کے مسائل کے بنیادی اسباب مثلاً سود، جوا، جمع خوری، نسل پرستی، اباحیت وغیرہ پر تحریکات چلانی ہوں گی اور اس میں برادران وطن کو بھی شامل کرنا ہوگا۔ ملت کے فلاحی اداروں سے برادران وطن کے ضرورت مندوں کی بھی اعانت کو فروغ دینا ہوگا۔ غیر مسلم تنظیموں کے ساتھ مشترکہ اقدار پر مل کر کام کرنا ہوگا ۔  کانفرنسیں اور سیمینار کرنے ہوں گے اور مسائل کے سلسلہ میں ایک علمی اور عملی فضا پیدا کرنی ہوگی۔
قرآن حکیم میں اللہ تعالی کا ارشاد اس تاریکی میں امید کی کرن ہے: ولا تهنوا ولا تحزنوا وأنتم الأعلون إن كنتم مؤمنين (تم نہ تو کمزور پڑو اور نہ غم کرو۔ اگر تم ایمان پر ثابت قدم رہے تو تمہیں غالب رہوگے۔ )
کتابیات:
ناتھن لین۔ The Islamophobia Industry: How the right manufactures fear of Muslims، پلوٹو پریس، ۲۰۱۲۔
اسلامی فقہ اکیڈمی۔مجلہ: اقلیتوں کے حقوق اور اسلاموفوبیا، ایفا پبلیکیشنز، ۲۰۱۲۔ (زیر نظر تحریر کی تیاری کے لیے اس مجلہ سے استفادہ کیا گیا ہے۔)
رنیمیڈ ٹرسٹ۔ Islamophobia A challenge for us all، لندن، ۱۹۹۷۔

نوبیل امن انعام کی سیاست



اکتوبر ۲۰۱۲ کی  ایک سہانی دوپہر ہے۔ شمالی وزیرستان میں ایک آٹھ سالہ بچی نبیلہ رحمان اپنے بھائی بہنوں اور دادی کے ساتھ کھیت میں کام کر رہی ہے۔عید الاضحی  قریب ہے۔ نبیلہ کی دادی اپنے پوتے پوتیوں کو کھیت سے بھنڈی چننا سکھا رہی ہے۔ کسے خبر تھی کہ آج ایک ایسا اندوہناک سانحہ ہونے والا ہے  جو اس ہنستے کھیلتے خاندان کی زندگی کا دھارا بدل کے کھ دے گا۔ ناگہاں بچوں کو آسمان میں ایک مخصوص گونج سنائی دیتی ہے۔ یہ امریکی ڈرون ہے،  ایک ننھا سا مسلح طیارہ،  جس کی گونج اس خطے کے باشندوں کے لیے روزمرہ کا معمول بن چکی ہے۔  یہ ڈرون ہر وقت فضاؤں  میں لوگوں کے تعاقب میں منڈلاتے رہتے ہیں۔ لوگ بھی ان پر اب زیادہ توجہ نہیں دیتے کہ یہ عام شہریوں کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں ہیں۔
 مگر یہ کیا؟
  اچانک  ڈرون سے ہلکی سی کلک کی آواز آتی ہے اور اس سے نکلنے والے گولے نبیلہ اور اس کے بھائی بہنوں پر برسنے لگتے ہیں۔ حیرت اور دہشت کی ملی جلی کیفیت میں نبیلہ کو اس کے سات بھائی خاک اور خون میں غلطیدہ نظر آتے ہیں۔ نبیلہ کی ضعیف دادی اس کی آنکھوں کے سامنے دم توڑ دیتی ہے۔

بھرا پرا کنبہ بکھر جاتا ہے۔ اس حادثے پر آج تک سی آئی اے اور امریکہ کی طرف سے کوئی معذرت، ہرجانہ یا توجیہہ نہیں پیش کی گئی ۔ نبیلہ کے ننھے سے ذہن میں ایک ہی سوال ہے۔ آخر کیوں؟ کس جرم میں اس کے معصوم بھائیوں اور دادی پر حملہ کیا گیا؟

دو سال بعد، اکتوبر ۲۰۱۴ میں، نبیلہ یہی سوال لیے اپنے ٹیچر والد اور بارہ سالہ بھائی کے ہم راہ امریکہ کا رخ کرتی ہے۔ اسے امید ہے کہ یہاں اس کی شنوائی ضرور ہو گی۔ لیکن  افسوس ان کی توقع کے برعکس انہیں ہر سطح پر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ نہ میڈیا ان کو کوریج دیتا ہے اور نہ اربابِ حکومت  ہی ان کی بات پر کان دھرتے ہیں۔ آخر کار امریکی کانگریس کی ایک مجلس میں نبیلہ کے کنبے کو اس واقعہ کی  شہادت کے لیے تاریخ مل ہی جاتی ہے ۔ اس مجلس میں ۴۳۰ ارکان  کی شرکت متوقع تھی ۔ مگر محض ۵ لوگ حاضر ہوتے ہیں۔ نبیلہ  کے والد ان سے کہتے ہیں کہ انہوں نے اتنی صعوبتیں جھیل کر امریکہ کا سفر محض  اس لیے کیا ہے کہ بحیثیت ٹیچر وہ امریکیوں کو بتا سکیں کہ ان کے بچے اور ان کی والدہ کوئی دہشت گرد نہیں تھے ، اور نہ ہی وہ دہشت گردوں جیسے نظر آتے تھے ۔ اس قسم کے سینکڑوں واقعات اس خطے میں ہوتے رہتے ہیں ، جنہیں  یکسر بند ہونا چاہیے۔

اب ایک اور منظر ملاحظہ کیجیے۔

نبیلہ اور اس کے کنبے پر حملے سے محض دو ہفتے پہلے، یعنی اوائل اکتوبر ۲۰۱۲ کی ایک دوپہر،سوات  کی گل پوش وادی سے ایک پرائیویٹ اسکول کی وین بچوں کو لیے اسکول سے واپس ہو رہی ہے ۔  اچانک  ایک موڑ پر چند نقاب پوش وین کو روکتے ہیں اور اس میں سوار ہو جاتے ہیں۔ یہ طالبان ہیں جو خطے میں لڑکیوں کی تعلیم کے مخالف ہیں اور اسکولوں کو بند کرنا ان کا مشغلہ ہے ۔ ان میں سے ایک نقاب پوش اپنی گن لہراتا ہوا غراتا ہے: "تم میں سے ملالہ کون ہے۔ " تمام  بچیاں  سہم جاتی ہیں، اور ایک ۱۵ سالہ بچی کی طرف دیکھنے لگتی ہیں جو بس میں سوار واحد ایسی  بچی ہے جس نے نقاب نہیں اوڑھ رکھا ہے۔ طالبان سمجھ  جاتا ہے کہ یہی ملالہ ہے۔ وہ اپنی کولٹ ۴۵ ریوالور سے بچی پر تین فائر کرتا ہے ۔ ایک گولی آنکھ کے قریب سے گزرتی ہوئی گلے میں لگتی ہے۔ ملالہ اپنے سہیلی منیبہ کے اوپر گرتی ہے۔ دو گولیاں  اس کی ہمجولیوں  کو  بھی لگ جاتی ہیں۔ کائنات ریاض کا شانہ اور شازیہ  رمضان کا  ہاتھ زخمی ہو جاتا ہے۔  طالبان ملالہ کو مردہ سمجھ کر وین سے اتر جاتے ہیں۔  ملالہ اور اس کی ساتھی سہیلیوں کو فوراً   قریبی ہسپتال پہنچایا جاتا ہے۔ ملالہ کی حالت بہت نازک ہے۔  یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔  ریڈیو اور ٹی وی طالبان کی اس جارحیت پر چیخنے لگتے ہیں۔ اخباروں میں اداریے لکھے جاتے ہیں۔ اسمبلیوں میں اس حملے کی مذمت کی جاتی ہے۔ دنیا بھر کی انسان دوست تنظیمیں  اپنے مذمتی بیان جاری کرتی ہیں۔ پاکستان، امریکہ  اور یوروپ  ہر جگہ ملالہ کا تذکرہ ہے اور اس کی زندگی کے لیے   اجتماعی دعائیں کی جاتی ہیں اور شمعیں جلائی جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ امریکی صدر اوباما اپنے مشیروں سے کہتے ہیں کہ ملالہ کو کچھ نہیں ہونا چاہیے۔ ملالہ کو خصوصی طبی امداد پہنچائی جاتی ہے۔ اسے پیشاور کے ہسپتال سے ائر لفٹ کرکے لندن پہنچایا جاتا ہے  جہاں  برمنگھم کے ایک ہسپتال میں اس کا بہترین ڈاکٹروں کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے۔ اور، حیرت انگیز طور پر  ملالہ  وہاں تیزی سے رو بہ  صحت ہو نے لگتی ہے۔

اس واقعہ کے بعد ملالہ یوسف زئی بہادری اور جرأت کی نئی علامت کے طور پر ابھرتی ہے۔  تاہم مغرب کے لیے اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ وہ طالبان مخالف ہے۔ اسے امریکہ اور مختلف ممالک سے ۳۴ مختلف اعزازات سے نوزا گیا۔اقوام متحدہ  نےعالمی تعلیم اطفال کے لیے ۲۰۱۳ سے ملالہ ڈے منانے کی تجویز پیش کی۔ اور اس سال کے نوبیل امن انعام  کے لیے مشترکہ طور  ملالہ یوسف زئی اور ہندوستان کے کیلاش ستیارتھی کے نام کا اعلان کیا گیا ہے۔۱۷ برس کی عمر میں ملالہ  دنیا کی سب سے کم عمر نوبیل انعام یافتہ ہے۔ اس سے پہلے یہ اعزاز ۳۲ سالہ یمنی صحافی و سیاست دان توکل کرمان کو حاصل تھا۔

کیلاش ستیارتھی کا تعلق مدھیہ پردیش کے ودیشہ ضلع سے ہے ۔ انہوں نے اپنا الیکٹریکل انجنیرنگ کا پیشہ ترک کرکے حقوق اطفال کے تحفظ کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیا۔ وہ محض ۲۶ سال کے تھے جب انہوں نے بچپن بچاؤ آندولن کے نام سے ایک این جی او شروع کی اور انتھک جدو جہد اور مساعی کے بعد  اسے ایک عالمی سطح کی تحریک میں بدل دیا۔ اس تحریک کے ذریعے ہزاروں بچوں کو بندھوا مزدوری ، جبری مشقت اور بردہ فروشی سے نجات دلائی  گئی ہے۔ مختلف تنظیموں کے تعاون سے ستیارتھی نے بڑی کامیابی کے ساتھ متعدد فیکٹریوں اور گوداموں پر کامیاب چھاپے پڑوائےجہاں بچوں سے جبری مزدوری کروائی جاتی تھی۔  یہ ستیارتھی ہی تھے جنہوں نے 'رگمارک' جیسے منصوبے کو  کامیاب کیا۔ اس منصوبے کے تحت قالین کی صنعت سے منسلک اداروں کو تصدیق نامہ دیا جاتا ہے کہ ان کے قالین بنانے میں کسی بچے سے مزدوری نہیں کروائی گئی۔ یہ منصوبہ انتہائی کامیاب رہا اور بیرون ممالک میں بچہ مزدوری کے لیے حساسیت پیدا کرنے میں اس نے خاص رول ادا کیا۔ کیلاش ستیارتھی سے ایک بار پوچھا گیا کہ انہیں اس مشن کی تحریک کہاں سے حاصل ہوئی تو ان کا جواب تھا حضرت محمد ﷺ سے۔ پیغمبر اسلام ﷺنے  ہمیشہ غلاموں کے حقوق کا خیال رکھنے کی تلقین کی ہے اور انہیں آزاد کرنے کو بہت بڑی عبادت قرار دیا ہے۔

ستیارتھی کا کام ہندوستان تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ ۶۰ سے زیادہ ممالک میں ان کی تحریک فعال ہے۔ ۱۹۹۸ میں انہوں نے چائلڈ لیبر کے خلاف ایک عالمی مارچ شروع کیا جو ایشیا ، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک سے ہوتا ہوا جنیوا میں اختتام پذیر ہوا۔ ایک سال بعد بین الاقوامی محنت کشوں کی تنظیم (ILO) نے ایک  قرارداد پاس کی جس کی رو سے بین الاقوامی طور پر خطرناک پیشوں سے  منسلک بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کا معاہدہ کیا گیا۔ تاہم ستیارتھی بھی تنازعات سے بری نہیں ہیں۔ انہیں پراجیکٹ کرنے میں کچھ متنازعہ بین الاقوامی اداروں کے نام آرہے ہیں۔  اس کے علاوہ ستیارتھی اپنے کام کے باوجود ہندوستانی میڈیا کے لیے بھی ابھی تک گمنام سی شخصیت رہے ہیں۔ بچہ مزدوری کے خلاف سب سے پہلی مہم سوامی اگنی ویش نے اپنے بندھوا مکتی مورچہ کے  ذریعےچھیڑی تھی۔ ستیارتھی بھی  کبھی اس تنظیم کا حصہ تھے لیکن بعد میں ان سے الگ ہو کر اپنی نئی تنظیم شروع کرلی۔ فاربس میگزین کی میگھا بہر ی لکھتی ہیں کہ جب انہوں نے اس تنظیم کا دورہ کیا تو انہیں مختلف جگہوں پر لے جایا گیا جہاں سے بچوں کو 'بچایا' گیا تھا۔ ان کی تیز صحافیانہ نظروں نے تاڑ لیا کہ یہ محض غیر ملکی فنڈنگ حاصل کرنے کا حربہ ہے۔ ان کے بقول:
 جتنے زیادہ بچے دکھائے جائیں گے اتنی ہی زیادہ غیر ملکی اعانتیں حاصل ہوں گی۔
  مدھو کشور کے مطابق ۱۲ سال پہلے امریکی اور جرمن تنظیموں نے ستیارتھی کی تنظیم کو ۲۰ لاکھ ڈالر کا تعاون دیا تھا۔

بایں ہمہ، ستیارتھی کا کام قابلِ ستائش ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے ہزاروں بچوں کو جبری مشقت سے نجات دلائی ہے۔ البتہ  ان کے حق میں نوبیل امن انعام کا اعلان خالص سیاسی فیصلہ ہے۔ نوبیل پرائز کمیٹی کے الفاظ اس بات کی کھلی چغلی کھا رہے ہیں:
نوبیل کمیٹی  کے نزدیک یہ امر اہم ہے کہ تعلیم کی خاطر اور تشدد کے خلاف ایک ہندو اور ایک مسلم، ایک ہندوستانی اور ایک پاکستانی، مشترکہ جدوجہد میں شامل ہوں۔" یہاں انعام یافتگان کے ملی و ملکی تشخص پر زور دینا سیاسی مصلحت سے خالی نہیں ہے۔

نوبیل پرائز کمیٹی کے چیئر مین ، تھور بیورن جیگ لینڈ (Thorbjorn Jagland) نے ان الفاظ میں ملالہ کوخراج عقیدت پیش کیا ہے:
اپنی کم عمری و نو خیزی کے باوجود، ملالہ کئی برسوں سے بچیوں کی تعلیم کی خاطر جدوجہد میں مصروف ہے اور اس نے اس بات کا نمونہ پیش کیا ہے کہ نو عمر لوگ بھی اپنے گردوپیش کے حالات بہتر بنانے میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ اس نے یہ کام انتہائی خطرناک  اور ابتر حالات میں انجام دیا ہے۔ اپنی جرأت مندی کے باعث وہ تعلیم نسواں کی سربرآوردہ ترجمان  قرار پاتی ہے۔
 پاکستان کے وزیرِ اعظم نے اسے فخرِ پاکستان کہا۔ عمران خان نے بھی ، جو اس سے قبل  مغرب کی "ملالہ پسندی" پر تنقید کرتے تھے، ملالہ کو نوبیل انعام ملنے پر مبارک باد دی ہے۔  تاہم پاکستان کے عوام کا تأثر ملا جلا ہے۔ جہاں بعض لوگ اسے ستارہ جرأت مانتے ہیں ، وہیں  بعض  افراد اسے امریکہ کا ایجنٹ  بھی سمجھتے ہیں۔

ملالہ کو شہرت  اس پر حملےسے کئی برس پہلے مل چکی تھی۔ ۲۰۰۹ میں نیو یارک ٹائمز کی ایک ڈاکیومنٹری فلم میں ملالہ کو پروفائل کیا گیا تھا۔ ڈاکیومنٹری کا عنوان تھا ' کلاس ڈسمسڈ'۔ اس وقت ملالہ محض ۱۱ سال کی تھی۔  فلم میں ملالہ اوباما کے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک سے ملاقات کرتی ہے اور یہ دکھایا گیا ہے کہ سوات میں طالبان کے خلاف آپریشن میں اس نے خاطر خواہ تعاون دیا ہے۔  ۲۰۱۱ میں ڈیسمنڈ ٹوٹو  نےملالہ کو بچوں کے عالمی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا تھا۔ یہ اعزاز ملالہ کو گل مکئی کے قلمی نام سے بی بی سی اردو میں بلاگنگ کرنے اور عالمی میڈیا کو خطے کے حالات سے باخبر کرنے میں اس کے تعاون کے اعتراف میں دیاگیا تھا۔  بہت سے لوگ تعجب کرتے تھے کہ آخر سات آٹھ سال کی بچی سیاسی ڈائریاں کیسے لکھ سکتی ہے۔ یہ الگ بحث ہے کہ بعد میں مختلف ذرائع سے یہ بات سامنے آئی کہ گل مکئی نے نہیں بلکہ بی بی سی کے نمائندے عبدالحئی  کاکڑ نے  یہ ڈائریاں لکھیں اور اس کے لئے ملالہ اور اس کے والد سے اجازت لینے کے ساتھ ان کو معاوضہ بھی ادا کیا گیا تھا۔

گل مکئی کے فرضی نام سے ملالہ نے  ۲۰۰۹میں بی بی سی پر ڈائری لکھنا شروع کی تھی ۔ ڈائری لکھنے کی وجہ اس کے  اسکول کا بند ہونا بتایا گیا ہے کہ طالبان نے اس کا اسکول بند کردیا تھا اور ملالہ کو اپنی تعلیم جاری نہ رکھنے کا بہت ملال تھا۔ یہاں یہ بات واضح کردی جائے کہ ملالہ یوسف زئی اپنے والد ضیاء الدین یوسف زئی کے اسکول 'خوشحال پبلک اسکول اینڈ کالج'  میں زیر تعلیم تھی اور اس اسکول کو نہ تو اس وقت تک دھمکیاں دی گئیں تھیں اور نہ ہی بند کیا گیا تھا اس لیے یہاں یہ بات غلط ثابت ہوئی کہ ملالہ کا اسکول بند ہوگیا تھا جس کے باعث اس نے ڈائری لکھنا شروع کی۔ ملالہ پر حملہ قابل مذمت ہے اور وحشت و بربریت کا کھلا ثبوت ہے لیکن ان ہزاروں بے گناہ اور معصوم  افراد اور بچوں کو کیوں فراموش کردیا گیا جن کے جسموں کے چیتھڑے ڈرون حملوں سے اڑائےگئے، جنہیں کفن اور جنازہ بھی نصیب نہ ہوا۔مگر ان کے لیے نہ کوئی آنکھ  روئی ، نہ دعا کے لیےکوئی ہاتھ اٹھا، نہ کسی اسمبلی میں قرار داد پاس کی گئی، نہ کوئی واک آؤٹ ہوا اور نہ شمعیں جلائی گئیں۔ ملالہ کی صلاحیتوں سے انکار نہیں ہے، لیکن پاکستان میں ایسے دسیوں بچے ہیں جو غیر معمولی طور پر ذہین ہیں، مضامین لکھتے ہیں اور ٹی وی پر بھی آتے ہیں۔ ملالہ کو طالبان مخالف آئیکن کی حیثیت سے مغربی این جی اوز نے منتخب کیا۔ اس میں تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ اکثر اس کی ملاقات امریکی فوج کے سینیئر  افسران، صحافیوں اور ڈپلومیٹس سے کرائی جاتی تھی جیسا کہ ڈاکیومنٹری سے ظاہر ہے۔ ملالہ کو نوبیل دے کرمغرب  نےگویا یہ پیغام دیا ہے کہ تعلیم نسواں  کے تئیں اسلام اور مسلمانوں میں کوئی اہمیت نہیں پائی جاتی ۔ لڑکیوں کے ساتھ اسلامی معاشرے میں امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ ملالہ نے نہ صرف طالبان سے مخالفت میں بلکہ تمام مسلم معاشرے کی مخالفت میں ناموافق حالات میں تعلیم نسواں کی وکالت کی ہے اور  تعلیم اور مساوات جیسی اعلی مغربی اقدار کو فروغ دیا ہے۔ ایسے "تاریک معاشرہ" میں ملالہ نے جو شمع روشن کی ہے اس کا صلہ نوبیل سے کم کیا ہوگا۔ 

ملالہ  کی شخصیت تو شروع سے متنازع تھی  ہی ، رہی سہی کسر اس کی کتاب 'I am Malala' نے پوری کر دی۔  کتاب پڑھیےتو اس میں جا بجا دل آزار باتیں ملیں گی۔ سلمان رشدی کی حمایت، قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والے واقعہ اور  ناموس رسالت  کے قانون وغیرہ کو آزادیٔ اظہار کا مسئلہ بناکر پیش کرنا۔ یہ سب پڑھ کر لگتا نہیں کہ یہ سولہ سالہ بچی کی آواز  ہے۔ کتاب  لکھنے میں کرسٹینا لیمب نے ملالہ کی معاونت کی تھی ۔ محسوس ہوتا ہے کہ بات معاونت سے آگے بڑھ کر رنگ آمیزی تک جا پہنچی ہے۔ مستشرقین کے جتنے اعتراضات اسلام پر ہیں کم و بیش تمام اس کتاب میں مل جائیں گے۔ آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن نے تمام پاکستانی پرائیویٹ اسکولوں میں ملالہ  کی  کتاب پر پابندی عائد کر دی ہے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ کتاب کے متن میں ایسی بہت سی باتیں ہیں جو سکول کے بچوں کو ابہام میں مبتلا کر دیں گی۔

ایک تجزیہ نگار ڈیوڈ سوانسن لکھتا ہے کہ
ملالہ کا مغربی میڈیا میں شہرت کی بلندیوں کو چھونے کا اصل سبب یہ ہے کہ وہ مغربی استعمار کے دشمنوں کا شکار ہوئی تھی۔ اگر وہ سعودی حکومت  یا اسرائیل  یا کسی بھی ایسی حکومت کی جارحیت کا شکار ہوئی ہوتی جنہیں مغربی ممالک اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں تو نہ تو ہمیں اس پر حملے کی بھنک لگتی اور نہ اس کے اچھے کاز کی خبر ملتی۔ اگر وہ محض پاکستان یا یمن میں ڈرون سے شکار ہونے والے بچوں کی وکالت کرتی توآج  امریکی ٹی وی ناظرین کے لیے بالکل اجنبی ہوتی۔

 چین میں  بھی میڈیا ملالہ کے انعام کو مشکوک نظروں سے دیکھتا ہے۔ چینی میڈیا کے مطابق یہ انعام  پاکستان اور افغانستان میں امریکی فوجی مداخلت کو مثبت انداز میں دکھانے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔  شنگھائی انسٹی ٹیوٹ  آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ڈائرکٹر ژاؤ گانشنگ کے مطابق :
ملالہ کا پروپیگنڈا افغانستان سے امریکی فوجی دستوں کے انخلا کے ساتھ ہی شروع ہوا تھا۔ مغرب ملالہ کی کہانی کو دیگر ممالک میں اپنی فوجی مداخلت کو حق بجانب ٹھہرانے اور اس کے روشن پہلو مثلاً تعلیم نسواں اور سیاست میں خواتین کی شمولیت کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے جبکہ اس کے تاریک پہلو  مثلاً بڑھتا ہو تنازع اور پیچیدگی اور بڑے پیمانےپر شہریوں کی ہلاکت کو دبایا جارہے ۔ 

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر میک کنسے اینڈ کمپنی کے بارے میں بہت اپڈیٹس آرہے ہیں۔ یہ عالمی مینجمنٹ کنسلٹنگ  کمپنی ہے جو ملالہ پراجیکٹ کے پیچھے کار فرما ہے۔ ملالہ کی میڈیا پروموشن بہت کچھ اسی کمپنی کا  کارنامہ ہے۔

نوبیل  امن انعام ہمیشہ متنازع رہے ہیں۔ یہ انعامات یا تو خوشامدی نوعیت کے ہوتے ہیں  جو یوروپ اور امریکہ کی سیاسی شخصیات کو خوش کرنے کے لیے پیش کیے جاتے ہیں یا پھر سرے سے غیر منطقی ۔ اس سال کل ۲۷۸ نامزدگیاں تھیں جن میں پوپ فرانسس ، کانگو کے ڈاکٹر ڈینس مکویج اور ایڈورڈ اسنوڈین جیسے اہم نام شامل تھے۔ عموماً نوبیل امن  ایوارڈ امن پسند افراد یا تنظیموں کو ہی دیا جاتا ہے لیکن اس کی تاریخ ایسی بھی رہی ہے کہ انتہائی وحشیانہ ماضی رکھنے والوں کو بھی یہ انعام ملا ہے۔ ایسے لوگوں میں سرِ فہرست ہنری کسنجر ہے جسے ۱۹۷۴ میں  شمالی ویتنامی لیڈر لی ڈک تھو کے ساتھ مشترکہ طور پر امن انعام کا حق دار ٹھہرایا گیا تھا۔ کسنجر کو یہ انعام ویت نام میں جنگ بندی کے معاہدے کے لیے دیا گیا جبہج جنگ اس انعام کے دو سال بعد تک جاری رہی۔۔ لی ڈک تھو نے یہ کہہ کر انعام لینے سے انکار کردیا تھا کہ امن معاہدے پر عمل درآمد ہی نہیں ہوا تو امن انعام کس بات کا؟ کسنجر تاریخِ عالم کے بدترین جنگی جرائم کا مجرم ہے جس نے ویتنام کی جنگ میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا اور ہزاروں افراد کی ہلاکت کا سبب بنا تھا۔ امن انعام حاصل کرنے کے بعد بھی کسنجر کمبوڈیا کی جنگ میں بربریت کا ننگا ناچ ناچنے سے باز نہیں آیا۔

۱۹۹۴ میں  فلسطین کے یاسر عرفات اور اسرائیل کے شمعون پیریز اور اضحاک رابن کو مشترکہ امن ایوارڈ دیا گیا تھا۔ شمعون پیریز اسرائیل کو نیو کلیئر قوت بنانے کے لیے ذمہ دار تھا۔ اس کے بعد ۱۹۹۶ میں اس پر لبنان کے قانا میں قتلِ عام کروانے کا بھی الزام ہے جس میں ۱۰۶ افراد ہلاک اور ۱۱۶ زخمی ہوئے تھے۔ رابن اسرائیل کی ملٹری میں افسر تھا جس نے ۱۹۴۸ کے نکبہ میں فلسطینیوں  پر مظالم کے پہاڑ توڑ دیے تھے اور  انہیں ان کے وطن سے ہجرت پر مجبور کیا ۔ یہ شخص بھی  ہزاروں افراد کی ہلاکت کا سبب بنا۔

۲۰۰۹ میں  جب نوبیل کا امن ایوارڈ امریکی صدر باراک اوباما کی جھولی میں ڈالا گیا تو ساری دنیا پرائز کمیٹی کی اس ستم ظریفی پرششدر رہ گئی۔ اوباما کو صدارت سنبھالے ابھی ۱۲ دن ہی ہوئے تھے کہ ان کی"غیر معمولی امن مساعی"  کی خاطر ان کی نامزدگی عمل میں آگئی۔ جبکہ اوباما نے  پاکستان اور افغانستان میں ڈرون آپریشن کو آگے بڑھایا، لیبیا پر بم برسائے اور اب شام پر فوج کشی کر رہا ہے۔ ۲۰۱۲ میں یہ انعام یوروپین یونین کو دیا گیا جبکہ سب جانتے ہیں کہ اس کی ماتحت عسکری تنظیم ناٹو افغانستان اور لیبیا میں جارحیت کے لیے ذمہ دار ہے۔  ۲۰۱۰ میں ایک چینی لیو شیاؤبو (Liu Xiaobo) کو اس انعام کا مستحق قرار دیا گیا۔ جبکہ اس سے ایک برس پہلے لیو کو ۱۹۸۹ میں دنگے بھڑکانے کی پاداش میں ۱۱ سال کی قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ چین کی وزارت خارجہ نے اس کا سخت نوٹس لیا اور کہا کہ لیو شیاؤبو ایک مجرم ہے جس نے چینی قانون کو توڑا ہے یہ  نوبیل انعام کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے اور   ایسے شخص کو انعام دینا خودامن انعام کی توہین بھی ہے۔" ۱۹۷۸ میں کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے لیے مینکم بگن (Menachim Begin) کو امن انعام دیا گیا ۔  یہ غاصب صیہونی اسرائیلی ریاست کے معماروں میں سے ایک تھا جو اسرائیل کا وزیر اعظم بھی بنا۔ بگن دنیا کی پہلی دہشت گرد تنظیم اِرگُن کا سرغنہ تھا جس نے ۱۹۴۶ میں کنگ ڈیوڈ ہوٹل میں بم دھماکہ کیا تھا۔ اس حملے میں۹۱ جانوں کا اتلاف ہوا تھا۔

یہ محض چند مثالیں ہیں ورنہ نوبیل انعامات کی پوری تاریخ اس قسم کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔

فریڈرک ہیفرمہل ناروے کے ایک وکیل ہیں جو گذشتہ کئی برسوں سے نوبیل پرائز کمیٹی کو اس بات پر آمادہ کرنے میں مصروف ہیں کہ امن انعام کے لیے  الفریڈ نوبیل  کی وصیت پر صحیح طور سے عمل درآمد ہو سکے۔ ہیفرمہل نے دو کتابیں بھی لکھی ہیں۔ ان کی حالیہ کتاب 'Nobel Peace Prize: What Nobel Really Wanted' میں انہوں نے ۱۹۰۱ سے ۲۰۰۹ تک کے تمام ۱۱۹ نوبیل امن انعامات کا تجزیہ کیا اور ثابت کیا ہے  کہ ان میں سے بیشتر انعامات دینا نوبیل کی وصیت کے عین منافی تھا۔ ان کے مطابق گذشتہ دس انعامات میں سے ایک کو چھوڑ کر باقی تمام انعامات بلاجواز اور غیر قانونی ہیں۔ الفریڈ نوبیل نے  ۱۸۹۵ میں اپنی وصیت میں لکھا تھا کہ
امن کا انعام اس فرد کو دیا جائے جس نے گذشتہ برس میں "اقوام عالم کے بھائی چارے کے لیے، جاری عسکری جارحیت کے سدباب کے لیے اور امن عالم کے لیے مجلس سازی اور  ان کےانعقاد کے لیے سب سے بڑھ کر اور سب سے بہتر کام کیا ہو۔"

ہیفرمہل حالیہ انعام کے بارے میں کہتے ہیں
ہر چند کہ ملالہ یوسف زئی بہادر ہے، ہو نہار ہے اور دلکش شخصیت کی حامل ہے۔ بچیوں کی تعلیم بہت اہم ایشو ہے اور بچوں کی مزدوری کے افسوسناک مسئلہ سے بھی چشم پوشی ممکن نہیں ہے۔ یہ دونوں کاز قابل ستائش ہیں۔ لیکن نوبیل کمیٹی نے ایک بار پھر نوبیل سے وفاداری کا ڈھونگ کیا ہے اور امنِ عالم کے اس منصوبے کو مبہم اور مخفی کر دیا جس کا نوبیل نے خواب دیکھا تھا۔ اگر یہ کمیٹی نوبیل کے لیے وفادار ہوتی تو ضرور اصرار کرتی کہ ملالہ نے اسلحے اور عسکریت کے خلاف کام کیا ہو، ممالک کے درمیان جنگ بندی کی کوشش  کی ہو، اور اسےاس  بات کا گہرا ادراک ہوکہ کیسے عسکری جارحیت تلے عوام  مصائب  سے دو چار ہوتے ہیں۔ نوجوان نسل اس بات کو بزرگوں سے بہتر جان سکتی ہے۔

ملالہ اور نبیلہ ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں۔ دونوں دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں۔  تاہم ایک مغرب کی آنکھ کا تارہ  ہے جبکہ دوسری  کی بات سننا بھی مغرب اور اس کے حواریوں کو گوار نہیں۔ مغرب کے لیے قابل ِاعتنا صرف وہی ہیں  جو ان کے دشمن کے ہاتھوں جارحیت کا شکار ہوتے  ہیں۔ایسی بے حس ، مصلحت کوش اور ترجیح پسند دنیا میں نبیلہ جیسے بچوں کے لیے شاید ہی کوئی ایوارڈ سیرمنی ہو گی اور شاید ہی  اس کے آنسو پونچھنے کے لیے کوئی آگے آئے گا۔ ایسے حالات میں امن کے ان ٹھیکیداروں کے ذریعے عالمی امن انعام کا اعلان ایک الم ناک اور بیہودہ مذاق کے سوا کچھ نہیں ہے۔