سفر درونِ ذات بے قیام کیوں نہیں رہا



مسافتوں کا پھر وہ اہتمام کیوں نہیں رہا
سفر درونِ ذات بے قیام کیوں نہیں رہا

کہیں سحر تو نہیں ہے غبار میں اب بھی


چھپا ہے نظم کوئی انتشار میں اب بھی
کہیں سحر تو نہیں ہے غبار میں اب بھی

ہرا بھرا تھا شجر بے لباس کیسا ہے


چمن میں آج یہ منظر اداس کیسا ہے
ہرا بھرا تھا شجر بے لباس کیسا ہے

یہ وقت معرضِ کرب و بلا میں ٹھہرا ہے


ہنوز عرصہ ٔ جور و جفا میں ٹھہرا ہے
یہ وقت معرضِ کرب و بلا میں ٹھہرا ہے

ستم گر کو پشیمانی بہت ہے



سرِ آئینہ حیرانی بہت ہے
ستم گر کو پشیمانی بہت ہے